انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 89

۸۹ کر سکتا کہ بغیر دعا کے کس طرح روحانیت قائم رہ سکتی ہے- میرا تو کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس میں میں دعا نہ کروں- پس ہر احمدی کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے حضور گڑ گڑائے تا کہ وہ اخلاص، روحانیت اور قوت پیدا کرے- دنیاوی چیزوں کی اس کے مقابلہ میں حقیقت ہی کیا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیں مل جائے مگر خدا تعالیٰ سوائے دعاؤں کے نہیں مل سکتا- بہت ہیں جو دروازہ پر پہنچ کر محروم رہتے ہیں- کیونکہ خدا تعالیٰ کو ملنے کا دروازہ بغیر دعا اور عاجزی کے نہیں کھل سکتا- ایسے لوگوں کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی اپنے محبوب کے دروازہ پر پہنچ کر دروازہ نہ کھٹکھٹائے- خدا تعالیٰ کے ملنے کے دروازہ تک پہنچنا ہمارا کام ہے آگے دروازہ کھولنا اس کا کام ہے- نماز، روزہ، حج، زکٰوۃ ایسے ہی امور ہیں جیسے کوئی اپنے محبوب کے دروازہ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے اور دعا ایسی ہے جیسے دروازہ کھٹکھٹاتا ہے- پس دعائیں کرو، عاجزی اور زاری سے دعائیں کرو- ورنہ یاد رکھو روحانیت کے قریب بھی پہنچنا ناممکن ہے- خدا تعالیٰ فرماتا ہے-قل مایعبوابکم ربی لولا دعاوکم۷؎ کہ تمہارا ایمان لانا اور مال خرچ کرنا کسی کام نہیں آ سکتا اگر تم مجھے نہ پکارو گے- پکارنے سے ہی معلوم ہو سکتا ہے کہ تمہیں مجھ سے سچیمحبت ہے اور تمہیں ملنے کے بغیر چین نہیں آ سکتا- پس دعاؤں پر زور دو مگر اس کے ساتھ تدبیریں بھی کرو- حضور نے اس امر کا ذکر کرتے ہوئے کہ سب اصحاب کو تمام تقریریں باقاعدگی کے ساتھ سننی چاہئیں اور اگر کسی کو کوئی خاص ضرورت پیش آئے تو اسے چاہئے کہ جلد سے جلد ضرورت پوری کرکے جلسہ گاہ میں آ جائے فرمایا: میرا خیال تھا کہ ہر ایک جماعت کے لئے جلسہ گاہ میں بلاک تقسیم کر دیئے جائیں اور جماعت کے امیر یا پریذیڈنٹ یا سیکرٹری صاحب کو ذمہ وار قرار دیا جائے کہ وہ اپنی جماعت کو لے کر اس جگہ بیٹھیں- میں امید کرتا ہوں کہ ایسا انتظام کرنے کی ضرورت نہ پیش آنے دی جائے گی اور احباب جس مقصد کو لے کر یہاں آتے ہیں، اسے حاصل کرنے کی پوری پوری کوشش کریں گے- (الفضل ۷- جنوری ۱۹۳۰ء) بدها: شک و شبہ پریشانی گھبراہٹ ، شش و بخاری کتاب الانبياء باب ماذكر عن بنی اسرائیل ۲