انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 78

۷۸ سوائے حضرت علیؓ یا ایک دو اور کے- مگر حضرت عائشہؓ دھڑلے سے فرماتی ہیں-قولوا انہ خاتم الانبیاء ولاتقولوا لانبی بعدہ۳؎یہ تو کہو کہ رسول کریم ﷺ خاتم النبین ہیں مگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں- اب دیکھ لو اس زمانہ کے مامور نے کس کی تصدیق کی- ان کی جنہیں ناقصات العقل کہا جاتا ہے یا ان کی جو کامل العقل کہلاتے تھے- اگر اس وقت وہ یہ کہتیں کہ میں جسے ناقصات العقل میں شامل کیا جاتا ہے کیوں بولوں تو آج اس بارے میں کس قدر مشکلات پیش آتیں اور ہم کتنے میدانوں میں شکست کھاتے- جب ہم خاتم النبین کے یہ معنی پیش کرتے کہ رسول کریم ﷺ کے بعد آپ کی امت میں سے آپ کی غلامی میں نبی آ سکتا ہے تو کہا جاتا پہلے کسی نے یہ معنی کیوں نہ سمجھے- اب جب یہ کہا جاتا ہے تو ہم کہتے ہیں دیکھو رسول کریم ﷺ کی بیوی نے یہی معنی سمجھے تھے- دراصل ناقصات العقل والدین نسبتی امر ہے کہ مرد کے مقابلہ میں عورت کم عقل رکھتی ہے- یعنی کامل سے کاملمردسے کامل سے کامل عورت عقل میں کم ہوگی اور دوسرے درجہ کے مرد سے دوسرےدرجہ کی عورت کم ہوگی اور اس سے کوئی انکار نہیں کرتا- بعض باتیں مردوں سے تعلق رکھنے والی ایسی ہیں جن میں عورتوں کو پیچھے رہنا پڑتا ہے جیسے لڑائیاں اور جنگیں ہیں- پس ناقصات العقل نسبتی امر ہے- اور اس سے عورتوں کا حق نمائندگی نہیں مارا جا سکتا کیونکہ اگر ایسا کیا جائے تو سب کے سب اول درجہ کی عقل رکھنے والے مردوں کو حق نمائندگی ملنا چاہئے دوسروں کا حق نہیں ہونا چاہئے مگر مجلس مشاورت میں جو نمائندے آتے ہیں ان میں گو اعلیٰ درجہ کی عقل رکھنے والے بھی ہوتے ہیں مگر بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو کچھ نہیں جانتے- ان سے بڑھ کر بیسیوں مرد دوسرے مقامات پر موجود ہوتے ہیں اور مرد ہی نہیں بیسیوں عورتیں بڑھ کر ہوتی ہیں- مثلاً ایک ایسا شخص جو کسی گاؤں سے آتا ہے اور مجلس مشاورت کا نمائندہ ہوتا ہے اس سے زیادہ واقفیت رکھنے والے بہت سے ہماری جماعت کے مرد لاہور میں ہوتے ہیں مگر انہیں نمائندگی کا حق نہیں دیا جاتا- غرض عورتوں کو نمائندگی دینا ان کا حق ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ کس طرح انہیں یہ حق دیں- میں سمجھتا ہوں الفضل کے مضامین پڑھ کر بعض لوگوں کو تو یہ خیال پیدا ہو گیا ہوگا کہ جہاد کا موقع آ گیا ہے مگر انہیں یاد رکھنا چاہئے عورتوں کا یہ حق ہے- ہاں سوال یہ ہے کہ کس طریق سے ان سے مشورہ لیا جائے تا کہ ان کا حق بھی زائل نہ ہو اور ان کے مشورہ سے ہم فائدہ بھی اٹھائیں-