انوارالعلوم (جلد 11) — Page 79
۷۹ اس کے بعد حضور نے شاردا ایکٹ ۴؎ کے متعلق فرمایا- بعض دوست سمجھتے ہیں اس نے شریعت پر حملہ کر دیا ہے اور بعض کہتے ہیں کوئی بھی خطرہ کی بات نہیں ہے- مگر میں کہتا ہوں دونوں افراط و تفریط سے کام لے رہے ہیں- وہ بھی جن کا خیال ہے کہ یہ اسلام پر حملہ کیا گیا ہے اور وہ بھی جو یہ کہتے ہیں کہ اس سے کوئی نقصان نہیں- یہ اسلام پر ہر گز حملہ نہیں ہوا مگر یہ بھی صحیح نہیں کہ اس سے کوئی خطرہ نہیں- بے شک اسلام پر حملہ نہیں ہوا مگر مسلمانوں پر حملہ ضرور ہوا ہے اور اس سے خطرہ ہے کہ اور بہت سے نقصان نہ پہنچ جائیں- اس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ ایک کمزور اور بے کس لڑکی کو نابالغی کی حالت میں بیاہ دینا بہت بڑا ظلم ہے اور اسے قوم اور جماعت کے لئے بیکار بنا دینا ہے- کوئی عقلمند اس کی تائید نہیں کرے گا اور نہیں کر سکتا لیکن نکاح اور میاں بیوی کے اجتماع میں فرق ہے- اجتماع تو نابالغی کی حالت میں کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہو سکتا مگر دیکھنا یہ ہے کہ نکاح بھی کسی صورت میں جائز ہے یا نہیں- یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا منشاء یہ ہے کہ عورت کا بلوغت کے بعد نکاح ہو کیونکہ نکاح سے عورت مرد کی رضا مندی کا تعلق ہے اور اگر بلوغت نہیں تو رضا مندی کیسی- پس اگر یہ کہا جائے کہ بلا ضرورت بھی نابالغ کا نکاح جائز ہے تو ہم کہیں گے نکاح کی غرض جو شریعت نے قائم کی ہے وہ باطل ہو جاتی ہے- نکاح سے غرض تو یہ ہے کہ مرد و عورت ایک دوسرے کے ممد ہونے کا عہد کریں اور یہ عہد نابالغی میں نہیں کیا جا سکتا- لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ بعض حالات میں نابالغ کا نکاح کرنے کی ضرورت پیش آ جاتی ہے- مثلاً ایک ایسا شخص ہے جس کی ایک بیوی فوت ہو جائے اور دوسری سے اس کے نوجوان لڑکے ہوں اور وہ پسند نہ کرے کہ سوتیلی بہنوں کی ولایت سوتیلے بھائیوں کے سپرد کرے اور کسی اور کو ولی بنا کر وہ یہ بھی نہ چاہتا ہو کہ دوسروں پر ظاہر کرے کہ اس کے گھر میں تفرقہ ہے- وہ نابالغ لڑکی کا نکاح کر سکتا ہے- مگر شریعت نے اس لڑکی کے لئے یہ رکھا ہے کہ اگر اسے یہ رشتہ ناپسند ہو تو بالغ ہو کر انکار کر دے اس طرح گویا نابالغ کا صرف لفظی نکاح ہو- کئی حالتوں میں یہ نابالغی کا نکاح ہی پسندیدہ ہو جاتا ہے- میرے پاس کئی اس قسم کے بھی خطوط آتے ہیں کہ ماں باپ نے ہمارا نکاح فلاں جگہ کیا تھا ہمیں وہی جگہ پسند ہے لیکن دوسرے رشتہ دار وہ رشتہ چھڑانا چاہتے ہیں- اسی طرح اور کئی احتمالات ممکن ہیں جن میں چھوٹی عمر کی شادی مفید ہو سکتی ہے مگر یہ شاذ و نادر ہوتے ہیں- تا ہم یہ ضرورت ہے کہ نابالغ کی شادی کرنے کی اجازت