انوارالعلوم (جلد 11) — Page 61
۶۱ اسی بی بی کی فہمِ حدیث کی ایک مثال دوسرا واقعہ یہ ہے جس سے ان کے کمالفراست اور غور و فکر کا ثبوت ملتا ہے وہ حضرت علیؓ کے بھائی حضرت جعفرؓ کی شہادت کا واقعہ ہے- جب ان کی اطلاع گھر پر آئی تو عورتیں رونے پیٹنے اور نوحہ کرنے لگیں جیسا کہ عرب کا رواج تھا- اسلام چونکہ نیا نیا تھا اس لئے اسلامی عادات ابھی پوری طرح لوگوں میں پیدا نہ ہو سکی تھیں اور جاہلیت کے زمانے کے اثرات باقی تھے اسی کی پیروی ان عورتوں نے کی- آنحضرت ﷺ کو جب کسی نے آ کر اس کی اطلاع دی تو آپﷺ~ نے فرمایا کہ انہیں منع کرو- منع کرنے سے بھی وہ باز نہ آئیں- پھر آ کر کسی نے شکایت کی- آپﷺ~ نے فرمایا احثوا التراب فی وجوھھن ۵؎ یعنی ان کے منہ پر مٹی ڈالو- وہ لوگ جنہوں نے آپﷺ~ کے اس ارشاد کو سنا فی الواقعہ مٹی ڈالنے کے لئے دوڑے- حضرت عائشہؓ کو جب اس واقعہ کا علم ہوا تو بہت ناراض ہوئیں اور فرمایا کہ تم رسول کریم ﷺ کو ایسا بداخلاق سمجھتے ہو کہ اس مصیبت کے وقت بھی تکلیف پہنچانے کا حکم دیں- آپﷺ~ کا تو یہ مطلب تھا کہ انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دو- قال اللہ و قال الرسول کا صحیح فہم اسی خاتون کو تھا اب دیکھو جس بات کو مردوں نے نہ سمجھا اسے ایک عورت یعنی حضرت عائشہؓ نے سمجھا اور یہی دنیا میں ایک عورت ہے جس نے قرآن کو اور خدا تعالیٰ کے رسول کے کلام کو صحیح معنوں میں سمجھا- اس کا ایک ثبوت افک کے واقعہ سے بھی ملتا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے آپ سے فرمایا کہ عائشہ سچی سچی بات بتا دو کہ کیا معاملہ ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا یہ میرا کام نہیں خدا تعالیٰ خود جواب دے گا- چنانچہ قرآن کی بعد کی وحی سے یہی ثابت ہوتا ہے- ان کا یہ خیال درست تھا کیونکہ قرآن نے یہی کہا ہے کہ الزام دینے والا گواہ لائے نہ کہ جس پر الزام ہو وہ اپنی بریت کے لئے قسمیں کھاتا پھرے- حضرت عائشہؓ نے قرآن کو قرآن کر کے پڑھا اس لئے مردوں سے زیادہ معرفت حاصل کی- اگر آپ بھی اسی طرح اس پر غور کرنے اور سمجھنے کی کوشش کریں گی تو ایسا ہی فائدہ حاصل کریں گی اور کسی علم کے حاصل کرنے میں کسی کی محتاج نہ ہوں گی- قرآن شریف ہر ایک زمانے کے علوم اپنے اندر رکھتا ہے- اگر کوئی اس پر غور کرے تو دنیا کو حیران کر دینے والے علوم کا دروازہ اہلدنیا پر خدا کی تائید سے کھول سکتا ہے-