انوارالعلوم (جلد 11) — Page 34
۳۴ زندگی بسر کرنے کی توفیق دے۔ہم خود بھی امن میں رہیں اور اپنے ہمسایوں کو بھی امن دیں۔غرض یہ ایک اہم معاملہ ہو گیا ہے اور اس کا سب اسلامی فرقوں سے تعلق ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں میں یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ اس قسم کے نقصان ہمیں اس لئے پہنچ رہے ہیں کہ جن امور میں ہمیں اتحاد کرنا چاہئے ان میں نہیں کرتے۔اس وجہ سے ہم سے دوسری قومیں وہی سلوک کر رہی ہیں جو ایک جاٹ نے ایک سید ایک مولوی اور ایک اُن کے خادم سے کیا تھا کہ ان تینوں کو اکیلے اکیلے کر کے خوب پیٹا تھا۔مگر میں سمجھتا ہوں مسلمانوں میں یہ بیداری پیدا ہو رہی ہے کہ جن باتوں میں ہم متفق ہو سکتے ہیں ان میں متفق ہو جانا چاہئے۔میں نے مسلمانوں کی تنظیم کے متعلق ایک سکیم سوچی ہے جو ایسے اصول پر ہے جو مسلمان خود تسلیم کر لیں۔پہلے قادیان کے اردگرد اور ضلع گورداسپور کے مسلمانوں میں اسے جاری کرنے کا ارادہ ہے۔پھر وسعت دی جائے گی اگر مسلمانوں کی آنکھیں کھل گئیں ہیں اور جیسا کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے، کھل گئی ہیں تو دوسری قومیں خود بخود انہیں حقوق دے دیں گی۔اب وقت نہیں ہے کیو نکہ مغرب کی نماز قریب ہے کہ میں سکیم کے متعلق کچھ کہوں۔میرا ارادہ ہے لوگوں کو جمع کرکے یہ سکیم ان کے سامنے پیش کروں اور پھر کارروائی شروع کی جائے۔میں اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ قادیان کے دوسرے مسلمانوں سے جو کشیدگی چلی آتی تھی وہ اس موقع پر دور ہو گئی۔اور میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت کے دوست خیال رکھیں گے کہ یہ اتحاد مستقل ہو اور وہ لوگ بھی ایسا ہی کریں گے۔میں نے اس کے لئے بھی سکیم تجویز کی ہے کہ اگر کوئی اختلاف پیدا ہو تو کس طرح اسے دور کیا جائے۔آخر میں میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالی دعویٰ کرنے کی بجائے ہمیں اپنے عمل سے ثبوت دینے کی توفیق دے۔میں مظلوم کی موت کو ظالم کی زندگی سے بہتر سمجھتا ہوں کیونکہ مظلوم خدا کا مقرّب ہو تا ہے اور ظالم خدا سے دور پھینکا جاتا ہے۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالی ہمیں اسلام اور مسلمانوں کا اعزاز اور توقیر اس ملک میں اور اس سے باہر بھی قائم کرنے کی توفیق دے اور مسلمان اسی نظر سے دیکھے جائیں جس سے رسول کریم ﷺ اور آپ کے اجداددیکھے جاتے تھے۔(الفضل 8 اکتوبر ۱۹۲۹ء)