انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 33

۳۳ احساسات کو زیادہ سے زیادہ مد نظر رکھیں گے۔ورنہ نہ صرف ہم ہی ذبیحہ گائے پر زور دیں گے بلکہ دوسرے مسلمانوں کو بھی ایسا ہی کرنے کی تحریک کریں گے۔باوجود اس کے مقامی ہندوؤں کے تعلقات ہم سے اچھے نہ تھے۔وہ جھوٹی باتیں ہماری طرف منسوب کر کے فتنہ پیدا کرنیکی کوشش کرتے رہتے تھے۔میں نے ہمیشہ ان کا خیال رکھا اور جب ایک گذشتہ سال مسلمانوں نے ہندوؤں کے ساتھ سیاسی تعلقات اچھے نہ ہونے کی وجہ سے یہ تحریک کی کہ گائے کی قربانی زیادہ کی جائے۔تو میں نے اعلان کر دیا کہ ہندوؤں کی دل آزاری کی غرض سے ایسا نہ کیا جائے اس طرح قربانی نہ ہوگی مگر ہماری ان باتوں کا کوئی خیال نہ کیا گیا۔ہماری امن پسندی کو بُزدلی بتایا گیا اور کہا گیا قادیان کے اردگرد سکھوں اور ہندوؤں کے ۸۴ گاؤں ہیں وہ مذبح قائم نہیں ہونے دیں گے۔میں کہتا ہوں۔اگر ۸۴ گاؤں بھی ہوں کیا ہوا مؤمن تو ساری دنیا سے بھی نہیں ڈرتا۔میں تو اگر اکیلا ہوتا اور ۸۴ چھوڑ ۸۴ لاکھ گاؤں بھی ارد گرد ہوتے اور عزت کا سوال ہوتا تو میں اکیلا ہی گائے ذبح کرتا اور سب سے کہہ دیتا آؤ جو کر سکتے ہو کر لو۔انسان زنده رہتا ہے کچھ کرنے کیلئے۔اگر اس کی عزت ہی نہ رہی تو اس نے زندہ رہ کر کیا کرنا ہے کس کے لئے زندہ رہے۔ادھر رسول کریم ﷺنے فرمایا ہے من قتل دون ماله و عرضہ فهو شهيد ۲؎ کہ جو اپنے مال اور عزت کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جاتا ہے وہ شہید ہے۔پس مؤمن موت سے نہیں ڈر سکتا۔اگر کوئی اسے موت کی دهمکی دیتا ہے تو وہ بڑی خوشی سے اس کا خیر مقدم کرتا ہے کہ آؤ جو مارنا چاہتا ہے مار ڈالے۔مگر جن کو خدا نے زندہ رکھنے کیلئے پیدا کیا ہے انہیں کون مار سکتا ہے۔مؤمن تو اس دیو کی طرح ہوتا ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ اس کے خون کی ایک ایک بوند سے ایک ایک دیو پیدا ہو جاتا تھا۔اگر کوئی ایک احمدی کو مارے گا تو اس کی جگہ سَو کھڑے ہو جائیں گے جس کا جی چاہے یہ تماشہ دیکھ لے۔اور ہم سے پہلے کونسی کمی کی گئی ہے لیکن ہمارا کیا بگاڑ لیا۔ابھی دیکھ لو ہندوؤں اور سکھوں نے مذبح کی اینٹیں ہی جُدا کی تھیں کہ سارے مسلمانوں کے دل اکٹھے ہو گئے۔اگر اس قسم کے جبر سے یہ لوگ کام لیں تو اس میں ہمارا ہی فائدہ ہے۔مسلمانوں میں قومی غیرت بھڑکے گی اور مسلمانوں کا تفرقہ جس کا کوئی علاج نظر نہیں آتا اس طرح دور ہو جائے گا۔پس ہم ان دھمکیوں سے گھبراتے نہیں۔ہاں کوئی صدمہ ہے تو یہ ہے کہ ہم دنیا میں جو صلح و آشتی پیدا کرنا چاہتے ہیں اسے نقصان نہ پہنچے۔ہم یہی دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالی میں اپنی عزت قائم رکھنے اور امن و آشتی سے