انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 616 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 616

۶۱۶ فضائل القرآن(نمبر ۳) باز رہنا پڑا۔یہ بھی شُھُب ہی تھے جو اس پر گرے۔انجیل کے متعلق کیوں ایسانہیں ہو تا۔پھر روسی حکومت جو قرآن سے جنگ کی آیات نکالنا چا ہتی تھی وہ خود جنگ کی لپیٹ میں آ گئی۔حفاظتِ قرآ ن اور یورپین مستشرقین دوسرا ذریعہ جس کی وجہ سے قرآن میں تغیّر و تبدل نہیں ہو سکتا۔اﷲ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیات میں یہ بیان کیا ہے کہ قرآن کے لئے حرس مقرر ہیں۔یعنی اس کے نگران ہیں۔اس وجہ سے اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔اس مضمون کو دوسری جگہ زیادہ وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔کَلَّا إِنَّھا تَذْکِرَۃٌ۔فَمَنْ شَآءَ ذَکَرَہٗ۔فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ۔مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَھرَۃٍ۔بِأَیْدِیْ سَفَرَۃٍ۔کِرَامٍ بَرَرَۃٍ۔یعنی یہ قرآن ایسے صحیفوں میں ہے جو عزت والے بڑی بلندشان رکھنے والے اور پاک ہیں۔اور یہ صحیفے دور دورسفر کرنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں جو بڑے معزّز اور اعلیٰ درجہ کے نیکو کار ہیں۔یہ آیت ایسی عجیب ہے کہ اسے پڑھ کر یوں معلوم ہو تا ہے کہ گویا عیسائی لٹریچر کو مد نظر رکھ کر اتاری گئی ہے۔میں نے موجودہ عیسائی لٹریچر سے ایسے الفاظ نکالے ہیں جو اس آیت کی تشریح معلوم ہو تے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اس کلام کے ہمیشہ محفوظ رکھنے کا سامان ہم نے کیا ہے اور وہ یہ کہ (۱)یہ کتاب ہمیشہ مکرم رہے گی۔ا سکا ادب ہم لوگوں کے دلوں میں ڈال دیں گے اورلوگ ادب اور تعظیم کی وجہ سے اس کو خراب نہیں کریں گے۔اس ادب کو سر ولیم میور یوں تسلیم کرتا ہے۔The Two sources would correspond closely with each other : for the Coran, even while the Prophet was yet alive , was regarded with a superstitious awe as containing the very words of God ; so that any variations would be reconciled by a direct refrence to Mahomet himself, and after his death to the orignals where they existed , or copies from the same , end to the memory of the Prophet's confidential friends and amanuenses۔۸۲؂ یعنی قرآن کا لوگوں پر اتنا رعب تھا کہ اس کے متعلق وہ خود اپنی عقل سے کوئی فیصلہ نہ