انوارالعلوم (جلد 11) — Page 512
۵۱۲ ہم ان کیلئے علماء بھیجیں- یہ اللہ تعالیٰ کا محض فضل اور رحمت ہے- ہماری کوئی قربانی، کوئی ایثار، کوئی اخلاص اس کا بدلہ نہیں ہو سکتا- یہ خدا تعالیٰ کی رحمانیت کے ماتحت ہے شروع میں بھی اور آخر میں بھی- نہ ابتداء میں ہمارا کوئی عمل اس فضل کے نازل ہونے کا باعث ہوا اور نہ کوئی انتہائی عمل اس کا بدلہ ہو سکتا ہے- ان حالات میں آؤ ہم خدا تعالیٰ کے آگے جھکیں اور جہاں سے بے مانگے اتنا کچھ ملا ہے وہاں سے مانگ کر دیکھیں کہ کتنا ملتا ہے- آؤ ہم سب مل کر دعا کریں کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ہمیں اس کام کے لئے چنا ہے، اسی طرح اس کے کرنے کی اہمیت اور طاقت بھی عطا کرے اور توفیق بخشے- ہمارے کاموں میں برکت دے کیونکہ جب تک خدا تعالیٰ آسمان پر نہ چاہے زمین میں اس کے فرشتے لوگوں کے قلوب نہیں کھولتے- ہم لوگوں کے کانوں تک خدا اور اس کے رسول کا کلام پہنچا سکتے ہیں مگر دلوں تک نہیں پہنچا سکتے- حالانکہ ہمارا فرض یہ ہے کہ لوگوں کے قلوب تک پہنچائیں- یہ خدا تعالیٰ ہی کر سکتا ہے کرے اور اس کی مدد اور تائید سے ہی ایسا ہو سکتا ہے- پس پیشتر اس کے کہ جلسہ شروع ہو میں احباب سے درخواست کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمارے اعمال اور اقوال میں برکت دے، ہمیں اپنے فضل کے سایہ کے نیچے رکھے، فرشتے آسمان سے ہماری تائید اور نصرت کے لئے نازل کرے، ہم کمزور ہیں ہمیں طاقت عطا کرے، ہم ضعیف ہیں ہمیں توانائی بخشے ہم جاہل ہیں ہمیں علم دے، ہم بے عمل ہیں ہمیں اعمال حسنہ کی توفیق دے، ہم دنیا کے مقابلہ میں نہتے ہیں وہ ہمیں کامیابی کے سامان عطا کرے تا کہ ہم اس عظیم الشان جنگ میں کامیاب ہوں جس کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں کھڑا کیا ہے- دنیا اس وقت ناپاکی اور غفلت میں مبتلا ہے، جہالت اور ظلمت کے گڑھے میں گری ہوئی ہے، شیطان اپنی ساری فوجوں کے ساتھ مقابلہ میں کھڑا ہے، ہم باوجود نہایت کمزوری اور ناتوانی کے اس کے مقابلہ کے لئے منتخب کئے گئے ہیں خدا تعالیٰ اپنا خاص فضل نازل کرے تب ہی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں- ہمیں اپنے فضل سے خدا تعالیٰ ایسی کامیابی عطا کرے کہ دنیا ہماری کمزوری اور ناتوانی کو دیکھتی ہوئی پکار اٹھے کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہی ہے اور اسی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دنیا کی اصلاح اور بہتری کے لئے بھیجا- دعا سے پہلے میں ایک اور بات بیان کرنا چاہتا ہوں- یہ اجتماع کا موقع ہے اور اس پر اس بات کا بیان کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق