انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 513

۵۱۳ خدا تعالیٰ کا الہام ہے لا نبقی لک من المخزیات ذکرا ۳؎ کہ ہم تیرے لئے رسوائی والی کوئی بات باقی نہ چھوڑیں گے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر مخالفین کی طرف سے ایک بہت بڑا اعتراض یہ کیا جاتا تھا کہ آپ کا ایک بیٹا آپ کے سلسلہ میں شامل نہیں- مخالف کہتے اگر مرزا صاحب سچے ہوتے تو ان کا اپنا بیٹا کیوں نہ انہیں مانتا- اگرچہ یہ کوئی ایسا اعتراض نہیں جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت پر حرف آ سکتا- حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے نے بھی ان کو نہ مانا تھا اس سے حضرت نوح علیہ السلام کی صداقت باطل نہیں قرار دی جا سکتی- پس مخالفین کا یہ اعتراض محض جہالت اور نادانی کی وجہ سے تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے بھی دور کر دیا اور ایسے لوگوں کا منہ بند کر دیا چنانچہ کل مرزا سلطان احمد صاحب میری بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے اور اس طرح بھی دشمن کا منہ بند ہو گیا- اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی بیٹا آپ کی جماعت میں داخل نہیں اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ساری کی ساری اولاد احمدیت میں داخل ہو گئی ہے- (اس پر تمام مجمع نے نہایت بلند آواز سے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے حضور مبارکباد پیش کی- اور حضور نے ‘’خیر مبارک’‘ کہا) ایک بات کا ذکر کرنا میں اپنی تقریر میں بھول گیا تھا اور وہ یہ کہ پچھلے ہفتہ دو دفعہ میں نے دو رؤیا دیکھے ہیں- جن میں ایسے نظارے دکھائے گئے جو مخفی ابتلاء کا پتہ دیتے ہیں- ایک رؤیا تو میں نے آج سے پانچ دن قبل دیکھا- ایک پرسوں- میں ان کی تشریح نہیں کرتا- یہ منع ہے کیونکہ منذر رؤیا کا بیان کرنا بعض اوقات اس کے پورا کرنے کا موجب ہو جاتا ہے لیکن اتنا بتا دیتا ہوں تا کہ دوستوں کی توجہ دعا کی طرف ہو کہ ایک حملہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃوالسلام پر کیا گیا اور ایک مجھ پر- اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان سے مبرم تقدیر بھی ٹل جایا کرتی ہے- احباب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحم سے ہر قسم کی مشکلات دور فرمائے اور ہر قسم کے ابتلاؤں سے جماعت کو محفوظ رکھے تا کہ ہم عمدگی اور آسانی سے اس کے سلسلہ کی خدمت کر سکیں- (الفضل یکم جنوری ۱۹۳۱ء) بنی اسر بیل :۸۹ تذکرہ ص ۵۳۸-ایڈیشن چہارم ۲