انوارالعلوم (جلد 11) — Page 476
۴۷۶ باب ہشتم فوج تمام سوالات میں سے جو ہندوستان کے مستقبل سے تعلق رکھتے ہیں فوج کا سوال سب سے اہم ہے- کیونکہ اس محکمہ پر ملک کے اندرونی اور بیرونی امن کا دارو مدار ہے اور سب سے زیادہ اس محکمہ میں ہی ہندوستانیوں کی کمی ہے- فوجی اسلحہ کا بنانا اور ہر قسم کے ہتھیاروں کی درستی اور مرمت اور ہر محکمہ کے ماہرین فن کی موجودگی میں ہندوستان بہت ہی پیچھے ہے لیکن باوجود اس کے یہ نہیں ہو سکتا کہ اس وجہ سے ہندوستانیوں کو ان کے ملک میں آزادی نہ دی جائے- ہمارے سامنے جاپان کی مثال موجود ہے- جاپان بے شک جزیرہ ہے اور اسے خشکی کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں تھا لیکن دو بحری طاقتیں اس میں دخل پیدا کر چکی تھیں- ایک یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ اور دوسرے برطانیہ- باوجود اس کے جاپان نے نہایت سرعت سے اپنی فوجی طاقت کو مضبوط کر لیا- اس میں کوئی شک نہیں کہ جرنیل ایک دن میں نہیں بنتے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ضرورت کے وقت جرنیلوں کے بنانے میں اس قدر دیر لگانے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی جس قدر کہ امن کے دنوں میں- عام طور پر جرنیل پچیس تیس سال کی نوکری کے بعد بنتا ہے لیکن جنگ عظیم کے دنوں میں ہر قوم کے فوجی افسر کس طرح جلد جلد جرنیل اور کرنیل بنتے تھے- غرض موقع کی بات ہوتی ہے جیسا موقع ہوتا ہے ویسا انسان کام کر لیتا ہے- پس اگر ابتدائی دنوں میں بعض عام قواعد کو ترک کر کے ہندوستانی افسروں کو نسبتاً جلدی ترقی دے دی جائے اور بجائے عرصہ ملازمت کے دیکھنے کے لائق افسروں کی قابلیتوں کا امتحان لے کر انہیں ترقی دے دی جائے تو عام اندازے سے بہت جلد ہندوستانی فوج تیار ہو سکتی ہے- سائمن کمیشن نے لکھا ہے کہ چونکہ ہندوستان کی فوج کا مقصد صرف ہندوستان کی