انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 449

۴۴۹ فائدہ کے کام سے محروم رکھنے کی کوشش کی گئی ہو- (۸) کوئی ایسا قانون نہ بنایا جائے گا جس کی غرض بعض افراد یا جماعتوں کو امتیازی طور پر فائدہ پہنچانا یا بعض افراد یا جماعتوں کو خاص طور پر نقصان پہنچانا ہو- (۹) جُداگانہ انتخاب کو پچیس سال تک منسوخ نہ کیا جائے گا سوائے اس صورت کے کہ جو قوم اس سے فائدہ اٹھا رہی ہو اس کے ۸۰ فیصدی منتخب ممبر اسے ترک کرنے کی درخواست کریں لیکن یہ ضروری ہوگا کہ جس مجلس کے انتخاب میں جداگانہ انتخاب اڑانے کی درخواست ہو اس مجلس کے اسی فیصدی ممبروں کی درخواست ہو- (۱۰) اتحادی حکومت کے جو حﷺ پہلی دفعہ مقرر ہو جائیں ان کے توڑنے یا ایک کو دوسرے سے ملانے کا اس حصہ کی مرضی کے سوا جس کا توڑا جانا ان حصوں کی مرضی کے سوا جن کو ملانا مقصود ہو کسی کو حق نہ ہوگا- (۱۱) اگر سندھ (SIND( نارتھ ویسٹرن(NORTHWESTERN) فرنٹیئر پراونس (FRONTIERPROVINCE) اور بلوچستان کو نیا نظام جاری ہونے سے پہلے صوبہ جاتی آزادی نہ ملے تو یہ بھی قانون اساسی میں درج ہونا چاہئے کہ پہلے پانچ سال کے اندر اندر ان صوبوں کو دوسرے صوبوں کی طرح خود اختیاری حکومت مل جائے گی اور یہ کہ اگر پانچ سال کے اندر مرکزی حکومت اس کا انتظام نہ کرے تو اس کا کوئی قانون اس وقت تک کہ وہ اس غرض کو پورا کرے جائز قانون نہ کہلا سکے گا کیونکہ اس کے وہ حﷺ جنہوں نے اسے اختیار دیئے ہیں رائے دینے میں آزاد نہ ہونگے- (۱۲(مافراد کے حقوق کی فہرست دے دی جائے کہ ان میں حکومت کو دخل دینے کا حق نہ ہوگا- مثلاً جائیداد کا چھیننا، ووٹ کا حق چھیننا، بغیر مقدمہ کے گرفتار کرنا، قانون کے پاس ہونے سے پہلے جرائم پر گرفتار کرنا یا سزا دینا وغیرہ وغیرہ- (۱۳( کسی صوبہ کی اندرونی آزادی کو مرکز کسی وقت اور کسی صورت میں نہیں چھین سکتا اور نہ کم کر سکتا ہے- (۱۴( جو اختیارات مرکز کو نہیں دیئے گئے ان کے متعلق کوئی قانون اس کا جائز نہ ہوگا بلکہ اس کے متعلق صوبہ جات کے قانون ہی تنفیذ کے قابل ہونگے- (۱۵( سپریم کورٹ کا فیصلہ مرکزی قانون اساسی کے متعلق اور صوبہ کے ہائیکورٹ کا فیصلہ