انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 430

۴۳۰ کی کوشش کرے- لیکن اگر صلح نہ ہو سکے تو پھر دونوں فریق کو اجازت ہو کہ سپریم کورٹ میں اپنے حق کا فیصلہ کرائیں- (۲) اگر صوبہ جاتی حکومتوں کا آپس میں یا کسی ریاست سے (اگر ریاستیں فیڈریشن میں شامل ہوں) جھگڑا ہو تو پہلے گورنر جنرل ایک پنچایت کے ذریعہ سے جس میں ایک ایک نمائندہ فریقین کا ہو اور ایک گورنر جنرل کی طرف سے ہو فیصلہ کرنے کی کوشش کریں اگر اس طرح فیصلہ نہ ہو سکے تو پھر سپریم کورٹ میں جانے کی اجازت ہو- (۳) اگر کسی قوم یا مذہب کے افراد کو شکایت ہو کہ ان کے حقوق کو قانون اساسی کے خلاف نقصان پہنچایا گیا ہے تو اگر لیجسلیٹو کے خلاف انہیں شکایت ہو، تو وہ اس ایکٹ کے پاس ہونے کے دو ہفتہ کے اندر صوبہ کے گورنر کے پاس یا بصورت اتحادی اسمبلی کا معاملہ ہونے کے گورنر جنرل کے پاس اپیل کریں- اگر گورنر یا گورنر جنرل سمجھے کہ لیجسلیٹو (LEGISLATIVE) نے فی الواقعہ اس جماعت کے قانون اساسی کے بتائے ہوئے حقوق کو توڑا ہے تو وہ اس قانون کو کونسل یا اسمبلی جس کا بھی معاملہ ہو اس کے پاس دوبارہ غور کرنے کے لئے بھیج دے- اگر گورنر جنرل یا گورنر کی تسلی کے مطابق اصلاح ہو جائے تو وہ اس پر دستخط کرے، ورنہ وہ اس قانون کی تصدیق کو التواء میں ڈال دے جب تک کہ دوسری کونسل یا اسمبلی کا انتخاب ہو- اس وقت اگر وہ اسمبلی یا کونسل جیسی بھی صورت ہو اس قانون کو دوبارہ پاس کر دے تو گورنر جنرل یا گورنر جیسی بھی صورت ہو اس قانون پر دستخط کر دے- اس کے بعد اگر اس فریق کو جسے اپنے حق کے نقصان پہنچنے کا خیال ہے ضرورت محسوس ہو، تو وہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ جیسی بھی صورت ہو، اس میں جا کر اپیل کرے- اس طرح میرا خیال ہے کہ بہت سے قومی اور ملکی اختلافات سپریم کورٹ میں جانے سے پہلے ہی طے ہو جایا کریں گے- اب سوال افراد یا جماعتوں کا رہ جاتا ہے- سو ان کی شکایات عام طور پر مالی ہوں گی یا اصولی انسانی حقوق کے متعلق ہوں گی- مالی مقدمات تو بہر حال چلتے ہی رہتے ہیں- انہیں محدود نہیں کیا جا سکتا اور اصولی انسانی حقوق کے جو سوال ہیں، وہ کثرت سے نہیں ہو سکتے شاذ و نادر ہوں گے- سو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ ایک ایسا حق ہے کہ جس کے متعلق مقدمات علم میں کچھ اضافہ کریں گے اور بحیثیت مجموعی ملک کو کچھ فائدہ ہی ہو گا- پس ان کے راستہ میں