انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 418

۴۱۸ خدا تعالیٰ کے فضل سے اسلامی پردہ کی بھی عامل ہے اور باوجود اس کے عورتوں کی تعلیم اس میں باقی سب ہندوستان کی عورتوں سے زیادہ ہے- میں نے جماعت کی امامت پر مقرر ہوتے ہی عورتوں کی تعلیم کی طرف توجہ کی ہے اور باوجود ہر قسم کے اعتراضات کے اس کو ترقی دیتا چلا گیا اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے قادیان میں نوے فیصدی سے بھی زیادہ لڑکیاں تعلیم پاتی ہیں- اور پچھلے تین سال سے یونیورسٹی کے امتحانوں میں ہماری عورتیں شامل ہونے لگی ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر سال ہماری جماعت کی کوئی نہ کوئی پردہ دار خاتون یونیورسٹی میں اول نمبر پر رہتی چلی آتی ہے- ہاں جو روک ہمارے راستہ میں ہے وہ پردہ کی نہیں بلکہ یہ ہے کہ استانیاں تیار ہونے میں دیر لگی ہے اور گورنمنٹ اس امر کی اجازت نہیں دیتی کہ مرد استاد پس پردہ عورتوں کو پڑھائیں- پس جب تک عورت استانیاں تیار نہ ہو جائیں ہمارے سکول یونیورسٹی سے باقاعدہ طور پر ملحق نہیں ہو سکتے- پس ہمارے تجربہ میں تو عورتوں کی تعلیم میں روک پردہ نہیں بلکہ گورنمنٹ کا رویہ ہے- جو یہ دیکھتے ہوئے کہ استانیاں نہیں مل سکتیں سوسائٹیوں کو اجازت نہیں دیتی کہ اس وقت تک کہ عورت استانیاں کافی تعداد میں میسر آ سکیں عمر رسیدہ اور قابل اعتبار مردوں سے لڑکیوں کو تعلیم دلوائیں- غالباً میری یہ تحریر سر جان سائمن (SIR JOHN SIMON)کی نظر سے بھی گزرے گی- میں امید کرتا ہوں کہ وہ اسے ذاتیات پر مبنی نہیں سمجھیں گے بلکہ انہیں یہ امر یاد ہوگا کہ ان کے اور ان کے رفقاء کے ہندوستان کے ورود کے موقع پر سب سے زیادہ جوش کے ساتھ میری جماعت نے انہیں خوش آمدید کہا تھا اور ان کے بائیکاٹ کے خلاف نہایت زبردست پروپیگنڈا اشتہاروں، ٹریکٹوں، اخباروں اور لیکچروں کے ذریعہ سے کیا تھا- پس مجھے جو اس امر کے خلاف پروٹسٹ (PROTEST )کرنا پڑا تو اس کی صرف یہ وجہ ہے کہ میرے نزدیک انہوں نے بغیر کافی تحقیق کے ایک اسلامی حکم پر حملہ کر دیا ہے- خلاصہ یہ کہ پردہ اسلام کا ایک حکم ہے- یوروپین اثر کے ماتحت بعض مسلمان اس کا انکار کریں یا اس پر عمل چھوڑ دیں تو یہ اور بات ہے مگر بہرحال اس کے اسلامی حکم ہونے میں کوئی شبہ نہیں- خود رسول کریم ﷺکی بیویاں پردہ کرتی تھیں اور اس وقت بھی کرتی تھیں جب کہ اسلام کی حکومت اپنے عروج پر تھی اور کسی قسم کا کوئی خوف نہیں تھا- اور ہمارا یہ یقین ہے کہ آخر اس برے طور پر استعمال کئے جانے والے اور غلط طور پر سمجھے جانے والے حکم کا