انوارالعلوم (جلد 11) — Page 412
۴۱۲ بنگال کی نسبت میرے نزدیک بہتر طریق یہ ہوگا کہ چھ فیصدی انگریزوں اور اینگلو انڈینز (ANGLO INDIANS) کو نشستیں دے دی جائیں- خواہ تجارت پیشہ ہوں یا دوسرے جو چارفیصدی مسلمانوں سے اور دو فیصدی ہندوؤں سے لی جائیں اور اس طرح مسلمانوں کو ۶ء۵۰ حق دیا جائے اور دوسری اقوام کو ۴ء۴۹ حق دیا جائے- یونیورسٹی کی دو نشستیں مقرر کی جائیں جن میں سے ایک ہندو کو اور ایک مسلمان کو ملے- زمینداروں کی الگ نمائندگی کی ضرورت نہیں- لیکن اگر انہیں علیحدہ نمائندگی دی جائے تو اس اصل پر ہو کہ ہر قوم کے حقنیابت کے برابر اس کی قوم کے زمینداروں کو حق نیابت ملے کیونکہ اگر زمینداروں کو صرف زمینداری کے حقوق کی نیابت کا خیال ہے تو ان کی نیابت اسی طرح ایک مسلمان زمیندار کر سکتا ہے جس طرح ایک ہندو- پس اگر ان کی غرض صرف زمیندارہ حقوق کی حفاظت ہے تو انہیں اس بات پر راضی ہو جانا چاہئے کہ دونوں قوموں کی نیابت کے تناسب کو قائم رکھنے کے لئے زمینداروں کے حلقوں کا انتخاب مخلوط لیکن معین نشستوں کے ساتھ ہو اور تعین نشستوں کا آبادی کے تناسب کے لحاظ سے ہو- اسی طرح اگر ہندوستانی تجارتی حلقوں کو حق دینا ضروری سمجھا جائے تو اسی اصول پر دیا جائے- یعنی نشستوں کا تعین مذہب کے مطابق ہو جائے تا کہ تجارتی اور زمینداری حلقوں کو قومی برتری کا ذریعہ نہ بنایا جائے- آخر مسلمان تاجر بھی ہیں اور زمیندار بھی اور وہ اسی طرح ان مخصوص مفاد کی نگرانی کر سکتے ہیں جس طرح ہندو صاحبان- تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ اگر ان حلقوں کو قائم رکھا جائے تو یہ شرط نہ کر دی جائے کہ تعداد آبادی کے مطابق ان حلقوں کے نمائندے منتخب ہونے چاہئیں- میں اس تفصیل میں نہیں پڑنا چاہتا کہ یہ انتخاب کن اصول پر ہوں کیونکہ انتخاب کے مختلف ذرائع میں سے کئی ذرائع ہماری غرض کو پورا کر سکتے ہیں- جو بھی مناسب ہو اسے اختیار کیا جائے- اصل غرض صرف یہ ہے کہ انگریزوں کی نمائندگی کے بعد جس میں چار فیصدی کی قربانی مسلمانوں سے اور دو فیصدی کی قربانی ہندوؤں سے کرائی جائے باقی سب حلقوں میں اس امر کا لحاظ رکھا جائے کہ خواہ مخصوص ہوں خواہ عام نسبت آبادی کی قائم رہے- میں خیال کرتا ہوں کہ میرے کئی دوست مجھ پر اعتراض کریں گے کہ- اس وقت تک تو میں زور دیتا رہا ہوں کہ مسلمانوں کو ان کی آبادی کے مطابق ووٹ ملیں لیکن اب میں نے خود