انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 393

۳۹۳ راضی ہو جائیں تو اس سمجھوتے کے بعد وہ مسلمانوں کے باقی صوبوں سے زائد حق نہیں چھینیں گے- ایک ایسی جماعت سے جس میں سرجان سائمن (SIR JOHN SIMON) جیسا قانوندان شامل ہو اس قسم کی غیر معقول تجویز کی میں ہر گز امید نہیں کر سکتا تھا- کمیشن نے اس تجویز کے پیش کرتے وقت کئی امور بالکل نظر انداز کر دیئے ہیں- اول یہ کہ جو چیز انسان کی اپنی نہ ہو اسے وہ کسی کو دینے کا حق نہیں رکھتا- وہ لکھتے ہیں کہ-: ‘’اگر باہمی سمجھوتے سے بنگال میں جداگانہ انتخاب کے طریق کو ترک کر دیا جائے تا کہ ہر اک جماعت ایک متحدہ حلقہ انتخاب سے اپیل کر کے جس قدر نشستیں لے جا سکے لے جائے- ہم اس بناء پر مسلمانوں سے ان دوسرے صوبوں میں کہ جہاں وہ اقلیت ہیں- جو زائد حق انہیں ملا ہوا ہے، نہیں چھینیں گے’‘- ۵۶؎ جس کے معنی یہ ہیں کہ اگر پنجاب اور بنگال دونوں مسلم صوبوں میں سے بنگال میں یہ سمجھوتہ ہو جائے کہ جداگانہ طریق انتخاب کو چھوڑ کر مخلوط انتخاب جاری کر لیا جائے تو وہ اس صورت میں دوسرے صوبوں میں مسلمانوں کے حق سے کچھ کم نہیں کریں گے- لیکن سوال یہ ہے کہ جب ملک کی قوموں میں آپس میں سمجھوتہ ہو جائے کہ وہ باوجود دوسری جگہ مسلمانوں کو زائد حق دینے کے اس صوبہ میں ان سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرتے جس میں وہ اکثریت ہیں تو اس میں سائمن کمیشن کا کیا دخل ہے- سائمن کمیشن کا دخل تو اس صورت میں ہو سکتا تھا اگر وہ یہ کہتا کہ اگر مسلمان بنگال میں مخلوط انتخاب کو ترک کر دیں تو ہم بغیر دوسرے صوبوں میں سے مسلمانوں کا حق کم کرنے کے بنگال میں عام مقابلہ کی انہیں اجازت دے دیں گے لیکن جب بنیاد انہوں نے مختلف قوموں کے اتفاق پر رکھی ہے تو ان کی دخل اندازی کا سوال ہی نہیں رہتا- اس قسم کی بات انہوں نے پنجاب کے متعلق بھی کہی ہے- دوسری خلاف عقل بات ان کی اس تحریر سے یہ نکلتی ہے کہ ایک طرف تو ان کا یہ دعویٰ ہے کہ چونکہ مسلمان پنجاب اور بنگال میں جداگانہ انتخاب کا مطالبہ کرتے ہیں اس وجہ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ یہاں بھی انہیں اس حق کے ساتھ ان کی تعداد کے برابر انہیں حق دے دیا جائے اور دوسرے صوبوں میں بھی انہیں ان کی آبادی سے زیادہ حق دے دیا جائے- اور دوسری طرف وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ اگر بنگال اور پنجاب میں مسلمان اور دوسری قومیں سمجھوتہ