انوارالعلوم (جلد 11) — Page 392
۳۹۲ ‘’اس (لکھنؤ کے) معاہدہ کو اب دونوں ہی فریق نمائندگی کا صحیح فیصلہ کرنے والا نہیں تسلیم کرتے’‘- ۵۳؎ لیکن حق یہ ہے کہ کبھی بھی اس پیکٹ پر عمل نہیں ہوا کیونکہ اس میں ایک اہم شرط تھی جس کی بناء پر یہ فیصلہ تسلیم کیا گیا تھا اور اس شرط پر ایک دن کے لئے بھی عمل نہیں ہوا اور وہ یہ کہ جب کسی قوم کے ممبروں کی تین چوتھائی یہ فیصلہ کر دے کہ کسی قانون کا ان کی قوم پر خاص طور پر مضر اثر پڑتا ہے تو وہ قانون پاس نہیں ہو سکے گا یہ قانون کبھی بھی قانون کی صورت میں نہیں آیا- پس جس اطمینان کی صورت کی امید دلانے پر مسلمان اس فیصلہ پر راضی ہوئے تھے جب کہ وہ صورت ہی پیدا نہیں ہوئی تو معاہدہ کی کیا ہستی رہی؟ غرض اس معاہدہ پر کسی فیصلہ کی بنیاد رکھنی بالکل درست نہیں اور جیسا کہ سائمن کمیشن نے لکھا ہے موجودہ مشکلات کو حل کرنے کے لئے ہمیں کوئی اور راہ تلاش کرنی ہوگی- سائمن کمیشن نے یہ راہ تجویز کی ہے کہ جن صوبوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں تو انہیں وہی حقوق دے دیئے جائیں جو ان کو ملے ہوئے ہیں ۵۴؎ لیکن پنجاب اور بنگال جہاں ان کی اکثریت ہے وہاں ان کے نزدیک مسلمانوں کو ان کی آبادی کے مطابق حقوق دینے کمیشن کے نزدیک درست نہیں- کیونکہ ‘’اس سے مسلمانوں کو دونوں صوبوں (بنگال اور پنجاب)میں ایک معین اور ناقابل تغیر اکثریت حاصل ہو جائے گی’‘- ۵۵؎ کمیشن کا خیال ہے کہ-: ‘’موجودہ زائد حق جو چھ صوبوں میں مسلمانوں کو حاصل ہے اس کی موجودگی میں بغیر دونوں قوموں میں کوئی نیا معاہدہ ہونے کے انصاف کے خلاف ہوگا کہ انہیں بنگال اور پنجاب میں موجودہ حق سے زائد دے دیا جائے’‘- کمیشن پھر خود ہی ایک تجویز پیش کرتا ہے- جس کے قبول کرنے پر وہ امید دلاتا ہے کہ مسلمانوں کے زائد حقوق دوسرے صوبوں سے نہیں چھینے جائیں گے اور جن صوبوں میں ان کی اکثریت ہے ان میں بھی انہیں زیادہ نمائندگی حاصل کرنے کا موقع رہے گا اور وہ یہ ہے کہ وہ بنگال میں مخلوط انتخاب کو مان لیں- پنجاب کے متعلق بھی ان کا خیال ہے کہ اگر مسلمان سکھ اور ہندو تینوں مخلوط انتخاب پر