انوارالعلوم (جلد 11) — Page 366
۳۶۶ جہاں تک مجھے یاد ہے پہلا شخص میں تھا جس نے اس طریق حکومت کی احمدیہ جماعت کے میموریل میں سفارش کی تھی لیکن میری سکیم مندرجہ ذیل اصل پر مبنی تھی کہ جو حصہ اختیارات کا ملک کے سپرد کیا جائے وہ پورے طور پر اس کے سپرد رہے اور جو حصہ سپرد نہ ہو وہ پورے طور پر سپرد نہ ہو- اس وقت مسٹر مانٹیگو MONTANGUE(۔MR اس سے متاثر معلوم ہوتے تھے لیکن دھلی کے بعد جہاں احمدیہ جماعت کا وفد پیش ہوا تھا کلکتہ میں یہی سکیم دوسری شکل میں مسٹر کرٹس کی مدد سے ان کے سامنے پیش کی گئی اور چونکہ وہ زیادہ مکمل صورت میں تھی مسٹر مانٹیگو اس کی طرف راغب ہو گئے- جب ان کی رپورٹ آئی تو پنجاب گورنمنٹ نے جس کے رئیس اس وقت سراوڈ وائر (SIR O, DWYER ) تھے ایک کاپی اس کی میرے پاس بھی بھجوائی اور میری رائے اس کے متعلق دریافت کی- میں نے اس پر ایک تفصیلی تبصرہ لکھا اور بتایا کہ یہ طریق فساد پیدا کرے گا- بہتر یہ تھا کہ جو ا ختیارات انہوں نے دینے تجویز کئے ہیں ان سے تھوڑے اختیارات ہندوستانیوں کو دیئے جاتے لیکن مکمل طور پر دیئے جاتے اور جن امور میں اختیار نہیں دیا گیاان میں خواہ اظہار رائے کی اجازت دی جاتی یا نہ لیکن کونسل یا اسمبلی کو متفقہ طور پر اس بارہ میں کوئی ریزولیشن پاس کرنے کی اجازت نہ دی جاتی کیونکہ انسانی فطرت کے یہ خلاف ہے کہ وہ ایک حد تک چل کر درمیان میں کھڑا رہ سکے- اس وقت میری اس رائے کی طرف توجہ نہیں دی گئی غالباً اس وجہ سے کہ وہ ایک مذہبی امام کی طرف سے تھی نہ کہ کسی سیاسی لیڈر کی طرف سے، مجھے خوشی نہیں بلکہ افسوس ہے کہ وہی خطرات جن کو میں نے تفصیلا بیان کیا تھا ظاہر ہوئے اور ملک میں فساد کی ایک رو چل گئی- پس میرے نزدیک دوشاخی حکومت کی وہ شکل جو ہندوستان میں جاری کی گئی ناقص تھی- دوسری صورت میں وہی دوشاخی حکومت کامیاب ہو سکتی تھی- مگر بہرحال اب جب کہ اس طریق حکومت کا تجربہ کیا گیا ہے اب واپس لوٹ کر پھر نئے سرے سے تجربہ نہیں کیا جا سکتا- دوسری طرف پچھلے بارہ سال میں ملک کے حالات بھی بدل گئے ہیں اور اب ضرورت ہے کہ قدم آگے بڑھایا جائے اس لئے میں کمیشن کی رپورٹ کی تائید کرنے پر مجبور ہوں- گو میرا خیال ہے کہ کمیشن کی رپورٹ کی پوری طرح تصدیق کرنا اب بھی ملک کو فسادات کا آماجگاہ بنا دے گا- مگر میری اپنی رائے جو کچھ بھی اس بارے میں ہے خواہ اسے میرے انگریز دوست ناپسند کریں یا ہندوستانی دوست اس پر ناراض ہوں میں آگے چل کر تفصیلات میں بیان کردوں گا گو بعض امور کے متعلق چونکہ