انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 310

۳۱۰ ۷- گورنمنٹ کو کسی قوم کے اہلی قانون (PERSONAL LAWS)میں اس وقت تک دخل دینے کی اجازت نہ ہو جب تک کہ اس قوم کے اپنے منتخب نمائندوں کی اکثریت اس کی تائید میں نہ ہو اس مزید شرط کے ساتھ کہ وہ نمائندے اس خاص مسئلہ کی تائید کا اظہار انتخاب کے وقت کر چکے ہوں- ۸- اس امر کی حفاظت کر لی جائے کہ اقلیتوں کو مخفی یا ظاہر تدابیر کے ذریعہ سے ملازمت کے مناسب حق سے اکثریت محروم نہیں کرے گی اور اقلیتوں کو ان کا واجبی حصہ ملتا رہے گا- ۹- ہندوستان کے آئین اساسی کو ایسی شکل دی جائے کہ اقلیتوں کے منشاء یا صوبہ جات کے منشاء کے خلاف اس میں تبدیلی نہ ہو سکے- ۱۰- صوبہ جات کی حدود میں تبدیلی آئندہ بغیر صوبہ متعلقہ کی مرضی کے نہ ہو سکے- یہ وہ دس مطالبات ہیں جو مختلف شکلوں میں مسلمانوں کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں اور چونکہ ان میں سب اقلیتوں کے حقوق آ جاتے ہیں اس لئے جہاں تک میں سمجھتا ہوں قلیل تغیر کے ساتھ ان تمام اقلیتوں کے یہ مطالبات ہیں کہ جو اس وقت اکثریت سے خائف ہیں- چنانچہ کلکتہ میں پچھلے دنوں جو انگریزوں کی آل انڈیا کانفرنس ہوئی ہے اس میں بھی اوپر کے مطالبات میں سے اکثر کی تائید کی گئی ہے- ان مطالبات پر ایک سرسری نظر ڈال کر معلوم کیا جا سکتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک مطالبہ قومی یا انفرادی ترقی کے لئے ضروری ہے- سوائے مذہبی یا تمدنی حصہ کے کہ شاید سیاسی نقطہ نگاہ سے اسے قومی یا فردی ترقی کا ذریعہ بعض لوگ تصور نہیں کرتے بلکہ اسے قومی ترقی میں روک سمجھتے ہیں لیکن اس حصہ کی حفاظت اگلے اصل میں آ جاتی ہے- چوتھا اصل میں نے یہ بتایا تھا کہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کے وقت یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جن امور کی حفاظت کا وہ مطالبہ کرتی ہیں کیا انہیں ملک کے فائدہ کے لئے قربان نہیں کیا جا سکتا؟ اس اصل کو مدنظر رکھنے کی اس لئے ضرورت ہے کہ جہاں بعض ایسے امور ہو سکتے ہیں کہ جنہیں قربان کیا جا سکتا ہے وہاں بعض ایسے امور بھی ہو سکتے ہیں کہ خواہ دوسرے لوگوں کے نزدیک وہ قومی یا فردی ترقی کے لئے ضروری نہ ہوں لیکن جس قوم یا فرد سے وہ متعلق ہیں وہ اپنے عقیدہ کے مطابق انہیں کسی صورت میں قربان نہیں کر سکتا- مذہبی یا تمدنی مسائل بھی اس قسم کے ہیں کہ دوسرے لوگ انہیں ضروری نہ سمجھتے ہوں لیکن جن اقوام سے وہ تعلق رکھتے