انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 277

۲۷۷ سائمن کمیشن کے سامنے تھی- پس ان حالات میں وہی سکیم بہتر تھی جو انہوں نے تجویز کی اور یہ بالکل درست نہیں کہ دوبارہ کمیشن کے قیام کی امید کی وجہ سے ہندوستان میں کوئی شورش ہوئی بلکہ حق یہ ہے کہ شورش کا موجب یہ تھا کہ ہندوستان کا ایک بڑا حصہ یہ سمجھتا تھا کہ مانٹیگوچیمسفورڈسکیم نے ہندوستان کو اس قدر حق نہیں دیا جس قدر کہ اسے دینا چاہئے تھا بلکہ اس دس سال کے بعد دوبارہ غور ہونے کے خیال سے کئی وہ لوگ جو دوسری صورت میں شورش میں شامل ہو جاتے اس میں شامل نہیں ہوئے- ہاں میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ پچھلے دس سال میں ہندوستان میں جو تغیرات پیدا ہوئے ہیں ان کی بناء پر زیر بحث سوال کا وہی حل بہتر ہے جو سائمن کمیشن نے تجویز کیا ہے- سائمن کمیشن کا تجویز کردہ حل یہ ہے-: ‘’چاہئے کہ نیا اساس جس قدر ممکن ہو اپنے اندر ہی ترقی کا سامان رکھتا ہو- چاہئے کہ اس میں ناقابل تبدیل اور ہمہ گیر اصول نہ ہوں- بلکہ اس میں حسب ضرورت ترقی اور اختلاف کی گنجائش ہو’‘-۱۲؎ میری رائے میں یہ حصہ کمیشن کے بہترین نتائج میں سے ہے- اگر سائمن کمیشن حقیقتاً اس اصل کے مطابق سکیم پیش کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے تو میرے نزدیک وہ ہمیشہ کے لئے ہندوستانیوں کے شکریہ کا مستحق ہے- کمیشن کے اس اصل کے ماتحت آئندہ ہندوستان کی آئینی ترقی کے لئے کسی اور کمیشن کی ضرورت نہیں ہوگی- ایک ہی دفعہ پارلیمنٹ ایک ایسا مسودہ پاس کر دے گی جس کے ماتحت ہندوستان آپ ہی آپ اپنے وقت پر اس آزادی کو حاصل کر لے گا جو اس کے لئے مقرر کی گئی ہے- مگر جہاں تک میں نے سکیم پر غور کیا ہے یا تو اس مقصد کو سائمن کمیشن اپنی تفصیل میں مدنظر نہیں رکھ سکا یا پھر ہندوستان کی آزادی کا مفہوم سمجھنے میں اسے دھوکا لگا ہے اور وہ ہندوستان کی آزادی کو دوسرے ملکوں کی آزادی سے مختلف چیز سمجھتا ہے- پہلے میں صوبہ جات کو لیتا ہوں- صوبہ جات کا نظام حکومت کمیشن نے یہ مقرر کیا ہے-: ۱ کہ گورنر کو وزارت کی مجالس کا پریزیڈنٹ تجویز کیا ہے- ۲ گورنر کو اختیار دیا ہے کہ وہ چاہے تو سول سروس کے کسی فرد کو یا کسی ایسے شخص کو جو نہ سروس میں ہو اور نہ کونسل کا ممبر ہو وزیر مقرر کر دے- ۳ اسے اختیار دیا ہے کہ خواہ ایک وزیر اعظم مقرر کر کے اس کے مشورہ سے وزارت مقرر کرے- خواہ مختلف اقوام میں سے وزیر چن لے-