انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 263

۲۶۳ صوبوں کی آبادی کے اخلاق اور ہیں انہوں نے مزدور اور روپیہ دیا ہر ایک سے جو کچھ ہو سکا اس نے دیا اور دل کھول کر دیا- لیکن یہ بھی درست نہیں کہ باقی ملک نے لڑنے والے فوجی نہیں دیئے- سر اوڈوائر (SIRO'DWYER) تحریر کرتے ہیں کہ-: ‘’گورنمنٹ آف انڈیا نے خود اس طرف توجہ نہیں کی چنانچہ جب اپریل۱۹۱۸ء میں حضور ملک معظم نے اپیل کی تو اس پر سب صوبہ جات میں بیداری پیدا ہوئی اور جنگ کے آخری چھ ماہ میں باقی ہندوستان نے ایک لاکھ تراسی ہزار فوجی ریکروٹ دیئے-’‘۶؎ اس میں کوئی شک نہیں کہ جنگ کے بعد ملک میں بے چینی پیدا ہوئی لیکن اس کا سبب یہ تھا کہ ہندوستان کے احساسات کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا تھا- ٹرکی جس کے فتح کرنے میں مسلمانوں کا بہت سا دخل تھا اس کے ساتھ مسلمانوں کے احساسات کو کچلتے ہوئے سب سے برا سلوک کیا گیا اور بعض انگریز ہندوستان کی خدمات کو یہ کہہ کر حقیر ثابت کرنے لگے کہ یہ سب کچھ روپیہ کی خاطر کیا گیا تھا- غرض اس جنگ کے موقع پر جسے جنگ آزادی کہا جاتا ہے ہندوستان نے اپنی خدمات کے ذریعہ سے اپنے آپ کو مہذب دنیا میں برابری کے ساتھ شریک ہونے کا اہل ثابت کر دیا اور اس لحاظ سے وہ آزادی کا مستحق ہے- سوال کے پہلے حصہ کو حل کرنے کے بعد اب میں اس کا دوسرا پہلو لیتا ہوں- کیا ہندوستان قابلیت کے لحاظ سے آزادی کا مستحق ہے؟ جہاں تک میں نے اس سوال پر غور کیا ہے میری سمجھ میں یہ بات کبھی نہیں آئی کہ کوئی ملک بھی ایسا ممکن ہے جو آزادی کا مستحق نہ ہو- اگر کسی ملک کی تعلیم کم ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ جیسا وہ ملک ہے ویسے ہی اس کے حاکم ہوں گے- یہ سوال تبھی درست تسلیم کیا جا سکتا ہے جب کہ بقائے انسب کے اصول کو پورے طور پر صحیح تسلیم کر لیا جائے لیکن جمہوریت کا اصول تو بقائے انسب کے اصول کے بالکل بر خلاف ہے جسے اگر تسلیم کر لیا جائے تو پھر سوائے چند پروفیسروں اور فلاسفروں کے کسی کو بھی ملک کی حکومت میں دخل نہیں حاصل ہونا چاہئے-