انوارالعلوم (جلد 11) — Page 239
۲۳۹ امیر جماعت اور منصب امارت کی حقیقت کا کام چلا جائے گا- کیونکہ رومن کیتھولک نظام میں مجلس شوریٰ پوپ کے مقرر کردہ نمائندوں پر مشتمل ہوتی ہے لیکن اسلامی مجلس شوریٰ میں سب مسلمانوں کو نمائندگی کا کافی موقع ملتا ہے- پس اس نظام کے ذریعہ سے ہر ملک کو یکساں نمائندگی سلسلہ کے کام میں حاصل ہونے کے لئے راستہ کھلا ہے اور اس کے ماتحت سب دنیا کو ایک نقطہ پر جمع کیا جانا ممکن ہے اور یہی مقصد اسلام کا ہے جو قومیت کے تنگ دائرہ سے دنیا کو نکالنا چاہتا ہے- قومیت کی روح اس میں کوئی شک نہیں کہ قومیت کی روح دنیا پر اس قدر غالب ہے کہ لوگ اس کے احساسات اور جذبات میں لذت محسوس کرنے لگ گئے ہیں اور بجائے اسے ایک خراب شدہ زخم کے ایک نعمت سمجھنے لگ گئے ہیں لیکن- باوجود اس کے اس احساس کی اسلام میں گنجائش نہیں اور اس کا قلع قمع کرنا ہمارے لئے ضروری ہے خواہ اس کے لئے کیسی ہی قربانی کیوں نہ کرنی پڑے- اپنے قریب کے فوائد کو ترجیح دینے کی بجائے ہمارا فرض ہے کہ ہم اس دائمی فائدہ کو مدنظر رکھیں جو اسلام دنیا کو پہنچانا چاہتا ہے ورنہ ہم اسلام کا ایک ہتھیار بننے کی بجائے اسلام کے خلاف ایک ہتھیار بن جائیں گے- اور اپنے وجود کو اپنے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی ٹھوکر کا موجب بنائیں گے- امیر کے فرائض اس اصل کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف ایک ہی نظام ہے جو صوبہ جات میں قائم کیا جا سکتا ہے اور وہ وہ نظام ہے جو باوجود صوبہ جاتی نظام کے تمام افراد اور جماعتوں کا تعلق مرکز سے قائم رکھے اور ایسا نظام وہی ہو سکتا ہے جس میں ایک تو امیر ہو جو خلیفہ کا نائب ہو- جس کا فرض ہو کہ وہ یہ دیکھے کہ ایک طرف تو صوبہ یا ملک کی جماعت خلیفہ اور صدر انجمن احمدیہ کے احکام کی پیروی کرتی ہے اور دوسری طرف یہ دیکھے کہ صوبہجات کی اکثریت کی طے کردہ پالیسی پر اس کے مقامی عمال عمل کرتے ہیں- گویا ایک طرف اس کا فرض ہے کہ صوبہ میں مرکز کے احکام کی پابندی کرائے اور دوسری طرف اس کا فرض ہے کہ یہ دیکھے کہ صوبہ کے عمال صوبہ کی جماعت کی اکثریت کے تابع چلتے ہیں- اور اپنے فرائض کو خود سری سے نظر انداز نہیں کرتے اور اسلامی مساوات اور جمہوریت کی روح کو کچلتے نہیں- تیسری طرف یہ دیکھنا بھی اس کا فرض ہے کہ اکثریت اسلام کے منشاء کے خلاف تو نہیں چلتی اور اگر اسے ایسا نظر آئے تو وہ اس کی اصلاح کر کے خلیفہ وقت کے پاس رپورٹ کرے-