انوارالعلوم (جلد 11) — Page 200
۲۰۰ قرآن کریم کے سوا رسول کریم ﷺ کو کوئی اور نشان نہیں ملا- آپ کی زندگی کا تو ہر پہلو ایک معجزہ تھا- اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس قدر معجزات دیئے کہ سب انبیاء کو مجموعی طور پر بھی اس قدر معجزات نہ ملے ہوں گے- لیکن اگر ہم فرض کر لیں کہ اور کوئی معجزہ آپ کو نہیں ملا، تب بھی قرآنکریم کا معجزہ سب معجزات سے بڑھ کر ہے- اور وہ ایک ہی آپ کے سب نبیوں پر برتر ہونے کا ثبوت ہے- چونکہ بعض لوگوں کو یہ خیال ہے کہ جب قرآن کریم کو معجزہ قرار دیا جاتا ہے تو اس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ اس کی زبان بہت فصیح ہے- اس وجہ سے یہ لوگ قرآن کریم کے مختلف عیوب بیان کرتے رہتے ہیں اور اس کوشش میں ایسی ایسی احمقانہ حرکات کر بیٹھتے ہیں کہ ہنسی آ جاتی ہے- چنانچہ سرولیم میور اپنی کتاب ‘’سوانح محمد’‘ (صلی اللہ علیہ وسلم) میں لکھتے ہیں کہ پانچویں سال سے دسویں سال قبل ہجرت میں رسول کریم ﷺ نے قرآن کریم میں یہودی کتب کے مضامین بیان کرنے شروع گئے اور اس وجہ سے قرآن کریم کا وہ پہلا اندازبیان نہ رہا اور بڑی مشکل سے یہودی روایات کو عربی زبان میں داخل کرنے کے آپ قابل ہوئے اور چونکہ دن کو تو آپ کو فرصت نہیں ہوتی تھی- اس وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ راتوں کو جاگ جاگ کر آپ محنت سے وہ ٹکڑے تیار کرتے ہوں گے- پھر وہ لکھتے ہیں کہ قرآن کریم کی آیات یایھا المزمل قم الیل الا قلیلا- نصفہ اوانقص منہ قلیلا- اوزد علیہ ورتل القران ترتیلا- انا سنلقی علیک قولاثقیلا- ان ناشئہ الیل ھی اشد وطا و اقوم قیلا- ان لک فی النھار سبحا طویلا- واذ کراسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا- ۱؎غالباً اس زمانہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں- سرمیور محقق تو بہت ہیں لیکن تعجب ہے کہ انہیں اس قدر بھی خیال نہیں آیا کہ یہ آیات مسلمہ طور پر پہلے سال نبوت کی ہیں اور سورۃ مزمل جس کا وہ حصہ ہیں نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہے بلکہ بعض محققین تو اس سورۃ کو ابتدائی سورتوں میں سے سمجھتے ہیں- پس جو سورۃ کہ ابتدائی زمانہ میں اتری ہے- اس میں اس محنت کا ذکر جو پانچویں یا دسویں سال میں بقول ان کے رسول کریم ﷺ کو کرنی پڑی خود ایک معجزہ ہے- کیونکہ کون شخص پانچ چھ سال