انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 189

۱۸۹ مجتنب رہنا چاہئے اور نمائندگی کے سوال کو صرف اپنے خیالات کی موافقت یا مخالفت کے معیار پر پرکھنا چاہئے- مسئلہ نمائندگی کی مشکلات اس مختصر نصیحت کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ نمائندگی کا سوال اس قدر آسان نہیں جیسا کہ خیال کیا جاتا ہے کیونکہ اس وقت تک کوئی بھی ملکی انجمن ایسی نہیں ہے کہ جس کی نسبت یہ کہا جا سکے کہ وہ ملک کی صحیحترجمان ہے اور جس کے سب ممبر قوم کے تمام افراد کی رائے سے اس کام کے لئے چنے گئے ہوں- پس سوال یہ ہے کہ کس ذریعہ سے گورنمنٹ معلوم کر سکتی ہے کہ فلاں شخص ملک کی اکثریت کا نمائندہ ہے؟ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں صحیح نمائندگی نہ ہونے سے خطرہ مگر ساتھ ہی اس امر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ گورنمنٹ کو اگر بغیر کسی ایسے ذریعہ کے اختیار کرنے کے جس سے قطعی طور پر نہیں تو کم سے کم غالب طور پر یہ معلوم ہو سکے کہ ملک اس وقت کس امر کا مطالبہ کرتا ہے اور کونسے لوگ اس کی رائے کے نمائندے کہلا سکتے ہیں، گول میز کانفرنس کے لئے نمائندوں کا انتخاب کرے گی تو وہ لوگ گورنمنٹ کے نمائندے کہلائیں گے ملک کے نہیں- اور کیا گورنمنٹ موجودہ جوش کے زمانہ میں خیال کر سکتی ہے کہ اس کے اس فعل کو ہندو یا مسلمان ایک منٹ کے لئے بھی برداشت کر سکیں گے؟ اگر سائمن کمیشن کے مقرر کرنے پر ملک میں شورش پیدا ہوئی تھی تو راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے انعقاد پر اگر اس میں مختلف اقوام کی صحیحنمائندگی نہ ہوئی تو زیادہ شور و فساد برپا ہونے کا خطرہ ہے- اور میں ڈرتا ہوں کہ کانگریس کو اس مرحلہ پر ایسی طاقت حاصل ہو جائے گی جو اور کسی ذریعہ سے حاصل نہیں ہو سکتی تھی- گورنمنٹ خود نمائندے منتخب نہ کرے گورنمنٹ کے ذمہ دار عہدہ دار اس میں شک نہیں کہ ایک اجنبی ملک کے باشندے ہیں اور اس ملک کے لوگوں کی ملکی حالت سے پوری طرح واقف نہیں لیکن وہ ان جذبات سے ناواقف نہیں ہو سکتے جو سب بنی نوع انسان میں مشترک ہیں- وہ یہ امر اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اگر راؤنڈ ٹیبل کانفرنس نے واقعہ میں کوئی مفید اور مستقل کام کرنا ہے تو کوئی قوم بھی یہ برداشت نہیں کرے گی کہ چند گورنمنٹ کے نامزد کردہ ممبران کی قسمت کا فیصلہ ہمیشہ کے لئے