انوارالعلوم (جلد 11) — Page 125
۱۲۵ جو عربوں میں رائج نہ تھی۔جیسے صلٰوۃ عربی لفظ ہے مگر اصطلاحی صلوٰۃ قرآن نے پیش کی ہے۔اس کے متعلق بھی کفار کہہ سکتے تھے کہ ہم نہیں جانتے صلوٰۃ کیا ہوتی ہے۔پس ان لوگوں کا اعتراض درحقیقت اسلامی اصطلاح پر تھا۔اور انہوں نے یہ کہا کہ اس کا جو مطلب قرآن پیش کرتا ہے وہ ہم نہیں جانتے اور اصطلاح جدید علم جدید کے لئے ضروری ہوتی ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ایک طرف تو قرآن میں آتا ہے کہ وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ۲۶ یعنی ہم نے ہرایک رسول کو اس کی قوم کی زبان میں ہی وحی دے کر بھیجا ہے اور دوسری طرف سورۃ ہود میں آتا ہے۔مخالفین نے حضرت شعیب سے کہا۔یٰشُعَیْبُ مَانَفْقَہُ کَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ ۲۷ اے شعیب! ہماری سمجھ میں تیری اکثر باتیں نہیں آتیں۔اب اس کا یہ مطلب نہیں کہ حـضرت شعیب علیہ السلام کسی ایسی زبان میں باتیں کرتے تھے جسے وہ لوگ سمجھ نہ سکتے تھے بلکہ یہ ہے کہ جو دینی باتیں وہ بیان کرتے تھے اور جو جو مسائل وہ پیش کرتے تھے انہیں وہ لوگ نہیں سمجھتے تھے۔اہل ِعرب میں رحمٰن کا استعمال وہ الفاظ جو قرآن نے استعمال کیے ہیں وہ ان لوگوں میں پہلے سے موجود تھے۔چنانچہ رحمن کا لفظ بھی ان میں استعمال ہوتاتھا۔قرآن کریم میں آتا ہے۔وَقَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰھُمْ ۲۸ یعنی وہ کہتے ہیں کہ اگررحمٰن کا یہی منشاء ہوتا کہ ہم شرک نہ کریں توہم شرک نہ کرتے۔غرض رحمٰن کا لفظ وہ بولا کرتے تھے مگر قرآن کریم نے رحمن اس ہستی کو قرار دیا ہے جو بغیر محنت کے انعام دیتی ہے اور یہ بات وہ لوگ نہیں مانتے تھے کیونکہ اس کے ماننے سے ان کا شرک باطل ہوجاتا تھا۔غرض وَمَاالرَّحْمٰن کے یہ معنی نہیں کہ عرب کے لوگ رحمن کا لفظ نہیں جانتے تھے بلکہ یہ ہیں کہ وہ اس اصطلاح کے قائل نہ تھے جو قرآن نے پیش کی۔بہرحال قرآن کریم کی فصاحت اس کے حسن کا ایک روشن ثبوت ہے۔اور پھر قرآن کریم کی یہ فصاحت ایسی بڑھی ہوئی ہے کہ آج تک علم ادب پر اس کااثر ہے اور زبان عربی کی ترقی کو اس نے ایک خاص لائن پر چلادیا ہے۔حتیٰ کہ عرب مسیحی مصنف بھی قرآن کی تعریف کرتے تھے اور ان کے مدارس میں قرآن کریم کے ٹکڑے بطور اد ب کے رکھے جاتے تھے۔ایک جاہل ملک میں ایک کتاب کا لوگوں کو والہ و شیدا بنادینا اور انہیں جاہل سے عالم کردینا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔