انوارالعلوم (جلد 11) — Page 80
۸۰ ہو- مگر ایسی ضرورتوں کو بھی قربان کیا جا سکتا ہے اور شریعت نے یہ جائز رکھا ہے کہ جائز امر کا ناجائز استعمال اگر جائز کیا جائے تو اس میں روک ڈال دی جائے- حدیث میں آتا ہے حضرتعمرؓ کے زمانہ میں لوگ تین طلاقیں اکٹھی دے کر پھر مل جاتے- حضرت عمرؓ نے کہا یہ شریعت کے ساتھ ہنسی ہے- اب اگر کوئی تین طلاقیں اکٹھی دے گا تو اسے پھر ملنے کی اجازت نہ ہوگی تو یہ جائز ہے کہ اگر کسی جائز بات کا ناجائز فائدہ اٹھایا جائے تو اس سے روک دیا جائے مگر اس کا فیصلہ خود مسلمان کریں دوسروں کو اس کا حق حاصل نہیں ہے کیونکہ اگر اور دخل دیں گے تو دوسرے مسائل پر بھی اس کا اثر پڑے گا- مثلاً گائے کا ذبح کرنا مسلمانوں کیلئے جائز ہے- کل کو ہو سکتا ہے ہندو اس کے خلاف قانون پاس کر دیں- اسی طرح طلاق جائز ہے، ایک سے زائد بیویاں کرنا جائز ہے، ان کے خلاف بھی غیرمذاہب والے قانون پاس کر سکتے ہیں مگر ان مسائل میں دخل دینا کوئی مسلمان برداشت نہ کرے گا- ان وجوہات سے نابالغی کی شادی میں رکاوٹ خطرناک ہے- مگر اس کا علاج یہ نہیں جو بعض لوگوں نے تجویز کیا ہے کہ دس دس سال کی لڑکیوں کی شادیاں کر دیں گے- یہ اپنا نقصان آپ کرنے والی بات ہے- اس کے بعد حضور نے یہ ثابت کیا کہ مسلمانوں کو ایسے قانون کی ضرورت نہیں کیونکہ ان میں بچپن کی شادی کا بہت کم رواج ہے اور وہ بھی روز بروز دور ہو رہا ہے- پھر حضور نے ان امور کی تشریح فرماتے ہوئے جن کی اسلام میں اجازت ہے بتایا کہ بعض ایسی اجازتیں ہیں جن کا شریعت نے ضمناً ذکر نہیں کیا بلکہ انہیں شریعت کا جزو بنا لیا ہے اور کہہ دیا ہے یہ باتیں کرو تو ان کے متعلق یہ یہ حکم ہے- ان اجازتوں میں کسی کا دخل دینا بہت زیادہ برا ہے- بچپن کی شادی بھی انہی میں سے ہے- شریعت نے اس کی اجازت دی اور اس کے لئے بعض احکام بیان کئے کہ لڑکی بالغ ہو کر چاہے تو ایسی شادی سے انکار کر سکتی ہے- پھر اسی اجازت کی ایک قسم یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اس پر خود عمل کیا ہو اور بچپن کی شادی ایسی ہی اجازت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اس پر عمل کیا- یعنی حضرت عائشہؓ کے ساتھ بچپن میں نکاح کیا- اور ۱۲ سال کی عمر میں ان کا رخصتانہ ہو گیا- یہ صحیح ہے کہ عرب میں بلوغت جلد ہو جاتی ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ حضرت عائشہؓ کے قویٰ اعلیٰ درجہ کے تھے لیکن ان کی عمر ۱۲ سال کی تھی- جب رسول کریم ﷺ کے ہاں تشریف لے گئیں- اب اگر ان کی عمر کے متعلق یہ انتظار کیا جاتا کہ ۱۷، ۱۸ سال کی ہو جاتی تو صرف ایک سال انہیں رسول کریم ﷺ کی