انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 54

۵۴ پندرہ روزہ اجلاس کر کے اس میں مختلف تجاویز پر غور کر کے اپنی رائے قائم کرتی رہیں اور کمیشن کے آنے پر ہر شہر کے لوگ امور متنازعہ پر بحث کر کے ہر مسئلہ کے متعلق اپنی رائے قائم کر کے اسے شائع بھی کرا دیں اور جس مسئلہ میں جس ایسی جماعت سے اتفاق ہو جس کا وفد کمیشن کے سامنے پیش ہوتا ہے اسے اطلاع دے دیں کہ اس بارہ میں آپ ہمارے قائم مقام ہیں تو اس سے مسلمانان ہند کو ایک غیر معمولی سیاسی طاقت حاصل ہو جائے گی۔ایسے فیصلوں کی ان ممبروں کو بھی اطلاع دینی چاہئے جو ان کی طرف سے کونسل یا اسمبلی میں ہوں تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ ان کے منتخب کرنے والوں کی کیا رائے ہے اور وہ اس کے خلاف راۓ نہ دیں کیونکہ ممبروں کی رائے ذاتی نہیں سمجھی جاتی بلکہ ان کے منتخب کرنے والوں کی رائے سمجھی جاتی ہے۔ہاں یہ امر بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ مختلف خیال والوں کی الگ کیٹیاں نہ بنائی جائیں بلکہ مختلف خیال کے مسلمان ایک ہی جگہ جمع ہو کر مشورہ کیا کریں اور جو قلیل التعداد لوگ ہوں ان کو بھی اختیار ہو کہ وہ اپنی طرف سے کسی دوسری انجمن کو حق نیابت دے دیں مگر یہ لکھ دیں کہ وہ قليل التعداد ہیں۔اس طرح کے متفقہ غور میں علاوہ ایک مفید فیصلہ تک پہنچنے میں سہولت ہونے کے اور بہت سے قومی فائدے بھی حاصل ہوں گے۔جن کے لکھنے کی اس جگہ گنجائش نہیں ہے۔مجھے افسوس ہے کہ یہ تجویز جس قدر عالی شان فوائد اپنے اندر رکھتی ہے میں اس پر تفصیلی بحث نہیں کر سکتا۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ تمام تعلیم یافتہ مسلمان اس کے عظیم الشان فوائد اور بے نظیر نتائج کو خود ہی محسوس کریں گے۔آخر میں میں تمام مسلمانوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہر قوم کی حالت اس کی اپنی کوششوں سے بدلتی ہے۔جو قوم یہ چاہتی ہے کہ دوسرے لوگ ہماری حالت کو بدلیں اور ہمیں ابھاریں وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔کمیشن کا موقع بےشک ایک اچھا موقع ہے اور اس سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہئے۔لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا بھر کی کمیشنیں ہمیں فائدہ نہیں پہنچا سکتیں جب تک ہم پختہ ارادہ اور عقد ہمت کے ساتھ اپنی اصلاح کے لئے خود آپ کھڑے نہ ہو جائیں۔قانون ہمیں کبھی آزاد نہیں کر سکتا جب تک کہ اقتصادی طور پر اور تمدنی طور پر بھی ہم آزادنہ ہوں۔میں نے پچھلے دنوں تحریک کی تھی کہ مسلمان اپنی اقتصادی آزادی کے لئے کوشش کریں اور الحمد لله اس تجویز سے ہزاروں جگہوں پر مسلمانوں کی دکانیں کھلیں اور لاکھوں روپیہ مسلمانوں نے کمایا لیکن میں دیکھتا ہوں کہ پھر اِس بات میں سستی ہو رہی ہے۔بدقسمتی سے مسلمان جب اُٹھتے ہیں جوش سے