انوارالعلوم (جلد 10) — Page 53
۵۳ چاہئے۔مگر سوال یہ ہے کہ ان امور کو کمیشن تک بصورت احسن پہنچا دیا جائے اس کے لئے میری طرف سے یہ تجویز ہے کہ ہر شہر اور قصبہ میں ایک اسلامی مقامی انجمن بنائی جائے جو کسی خاص خیال کی پابند نہ ہو۔اس کی غرض صرف یہ ہو کہ تمام تجاویز جو مختلف لوگوں یا انجمنوں کی طرف سے شائع ہوں وہ ان پر غور کرے اور سب تجاویز پر غور کر کے اپنی ایک رائے قائم کرے۔اس کے بعد جس جس جماعت سے اس کا خیال ملتاہو ریزولیوشن کے ذریعہ سے اسے اطلاع دے کہ فلاں فلاں شہر کے مسلمانوں کی کثرت اس خیال میں آپ سے متفق ہے۔قلیل التعداد خیال کی راۓ کو بھی شائع کیا جائے۔اس طرح ایک بہت بڑا فائدہ ہو گا اور وہ یہ کہ ہر ایک رائے پر آزادانہ غور ہو سکے گا اور کسی خاص پارٹی کے اچھے یا بُرے خیالات کا پابند نہ ہونا پڑے گا اور مسلمانوں کی صحیح رائے کمیشن تک پہنچ جائے گی۔میں اس کی مثال یوں دیتا ہوں کہ فرض کرو کہ مختلف بحثوں کے بعد دس اہم امور کے متعلق فیصلہ ہوا کہ ان کو ضرور پیش کرنا چاہیے۔ایک شہر کے لوگوں کو ان میں سے آٹھ میں مسلم لیگ سے اتفاق ہے اور دو میں مثلاً کانگریس میں مسلمانوں سے۔اب بجاۓ اس کے کہ دونوں یہ کہتے پھریں کہ ہم سب مسلمانوں کے نمائندے ہیں۔یا یہ کہ اس شہر کے لوگ اس پارٹی کی تائید کر دیں جس سے آٹھ امور میں ان کو اتفاق ہے۔یہ ہونا چاہئے کہ اس شہر کے لوگ اپنا اجلاس کر کے اور غور کر کے اس کمیٹی کو جس کے ساتھ ان کو آٹھ امور میں اتفاق ہے اپنی طرف سے اختیار لکھ دیں کہ ان ان آٹھ امور میں ہم آپ سے متفق ہیں۔آپ یہ پیش کر سکتے ہیں کہ اس جگہ کے مسلمان ان امور میں ہم سے متفق ہیں اور دوسرے دو امور میں دوسری کمیٹی کو لکھ دیں کہ آپ کو اختیار ہے کہ آپ یہ پیش کر دیں کہ ان دو امور میں ہمیں آپ سے اتفاق ہے۔یا فرض کرو کہ تین سیاسی جماعتیں یا چار یا پانچ ہوں اور سب سے ایک ایک دو دو امور میں اتفاق ہو تو سب کو لکھ دیں کہ فلاں فلاں امر میں ہمیں آپ سے اتفاق ہے۔اس کا یہ فائدہ ہو گا کہ کسی ایک امر میں بھی کثرت رائے کو اپنی رائے قربان نہیں کرنی پڑے گی۔ہر امر میں مسلمانوں کی حقیقی کثرت رائے کمیشن تک پہنچ جائے گی اور اس سے مسلمانوں کے مطالبات کو اس قدر تقویت حاصل ہوگی جو کسی دوسری صورت میں نہیں ہوسکتی۔اب ایک ہی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے سے یہ نتیجہ پیدا ہوتا ہے کہ بعض اے امور کی خاطر بعض بُرے امور کو بھی قبول کرنا پڑتا ہے حالانکہ سیاسیات میں آپس میں اختلاف بالکل ممکن ہوتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہر قصبہ اور ہر شہر میں ایسی انجمنیں ابھی سے بن جائیں اور وہ ماہواریا