انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 24

۲۴ حریت ضمیر میں سچ کہتا ہوں کہ اگر مسلمان ترقی کرنا چاہتے ہیں اور انہیں کرنی چاہئے تو حریت ضمیر کو کُچلنا نہیں چاہئے۔اگر ایسے مجمعوں میں جہاں مختلف خیال کے لوگ ہوں ایک فریق دوسرے فریق کے خلاف تقریر کر رہا ہے، امن کو قائم رکھنے کے لئے وہ فریق جس کے خلاف دوسرا بول رہا ہے کھڑا ہو جائے اور اپنے ہم خیال لوگوں کو اپنے نفس پر قابو پانے اور رواداری دکھانے کی تعلیم دے اور امن کو قائم رکھے تو اعتراض کرنے والے فریق کو خود شرم آئے گی کہ وہ دوسروں کے جذبات کو مجروح نہ کرے۔اسی طرح اگر ہندووں کے خلاف کوئی مسلمان تقریر کر رہا ہے تو ہندو امن کو قائم رکھے اور مسلمانوں کے خلاف کوئی ہندو بول رہا ہے تو مسلمان اپنی رواداری کا ثبوت دیں۔رواداری کا نہ ہونا بُزدلی پر دلالت کرتا ہے اور اپنے نفس پر قابو نہ ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔معتدل پسندی سے جواب دو۔بے جا جوش اور غصہ کا کوئی نتیجہ نہیں۔مگر اب حالت بالکل بدل گئی ہے۔لوگ اختلاف رائے کا سننا تو درکنار اس سے ملنا بھی برداشت نہیں کر سکتے۔لاہور کے گزشتہ فساد کے ایام میں میں نے اپنے آدمیوں کو بھیجا کہ وہ قیام امن میں حصہ لیں اور مظلوم اور زخمیوں کی امداد کریں۔عام طور پر ان مسلمانوں نے بھی جو ہماری جماعت میں نہیں اس کام کو پسند کیا۔لیکن ایک شخص سے وہ مزنگ ملنے کے لئے گئے اسے اس قدر وحشت ہوئی کہ وہ چاہتا تھا کہ میرے آدمی جلد اس کے پاس سے چلے جاویں۔وہ ہمارے کام کو پسند کرتا تھا مگر اختلاف رائے کو برداشت نہ کر سکتا تھا۔مگر میری حالت بالکل جُدا ہے۔اسی لاہور کا واقعہ ہے کہ ایک ہندو ڈاکٹر میرے پاس آئے اور کہا کہ گاندھی جی نے کہاہے کہ میرا جی چاہتا ہے کہ قادیان جا کر مجھے ان کو آپریشن (NON - COOPRATION) کا وعظ کریں۔میں نے کہا بہت خوب ہے وہ شوق سے آئیں اور مجھے سمجھائیں۔قومی اتحاد کے لئے پہلی چیز رواداری ہے۔مسلمانوں میں مختلف فرقے اور عقیدے کے لوگ ہیں جب تک وہ آپس میں رواداری کا برتاؤ نہ کریں تو اتحاد نا ممکن ہے۔اب اگر ایک احمدی سمجھتا ہے کہ جو نہی میں نے مرزا صاحب کا نام لیا تو گالیوں کی بوچھاڑ اور پتھر پڑیں گے۔وہابی سمجھتا ہے کہ میں نے اپنے عقیدہ کا اظہار کیا اور مسجدسے باہر نکالا گیا۔اسی طرح شیعہ سنی ایک دوسرے سے خائف اور ترسا ں رہیں تو رواداری کیونکر پیدا ہوگی؟ پس قومی ترقی کے لئے رواداری کا مادہ پیدا کرو اور خلاف سننے سے مت گھبرا ؤ کوئی ماننے پر مجبور نہیں کرتا۔