انوارالعلوم (جلد 10) — Page 23
۲۳ چھٹی ذمہ داری چھٹی انفرادی ذمہ داری نفس پر قابو ہے۔اس وقت افراد کی یہ حالت ہے کہ صبر اور حوصلہ سے ایک بات سن نہیں سکتے اور ضبط اور برداشت کی قوت مفقور ہو رہی ہے جس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ گندی گالیوں پر اتر آتے ہیں اور اپنے اخلاق سے نیچے گر جاتے ہیں۔اور وہ جوش جو غیرت کے نتیجہ میں پیدا ہونا چاہئے اس کا غلط استعمال کر کے اس کو ضائع کردیتے ہیں۔پس چاہئے تو یہ کہ گالیاں دینے کی بجائے کام کر کے دکھاویں اور گالیوں سے پرہیز کریں۔گالی ایک ایسی چیز ہے جیسے انجن سے سٹیم نکال دیں۔جوش اور غیرت کا صحیح استعمال جاتا رہتا ہے اور قومی اخلاق مرجاتے ہیں۔یہ چند انفرادی ذمہ داریاں ہیں اگر مسلمان ان کو سمجھ لیں اور اپنی عملی زندگی کا ضابطہ اور دستور العمل ان کو بنالیں تو ایسے افراد پر مشتمل جو قوم یا جماعت بنے گی اس کی مضبوطی، قوت اور ترقی میں کسے شبہ ہو سکتا ہے؟ اب میں قومی فرائض اور ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔پہلی قومی ذمہ داری، رواداری پہلی قومی ذمہ داری ،رواداری ہے۔اختلاف رائے کو سن کر جوش میں آنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اختلاف رائے کو سن لینے کی قوت پیدا کریں۔اس سے عقل تیز ہوتی ہے اور سوچنے اور سمجھنے کامادہ بڑھتا ہے۔یہ ناممکن ہے کہ اختلاف نہ ہو جب کہ مختلف خیال مختلف مذاق اور مختلف استعدادوں کے لوگ موجود ہیں تو اختلاف رائے کا ہونا ضروری ہے۔ایسی حالت میں ہم رواداری نہیں برت سکتے تو اس کے استعمال کا محل ہی کونسا ہے؟ رواداری اختلاف رائے ہی کے وقت ظاہر ہوتی ہے۔اب اگر میں سلسلہ کی بات کرنے لگوں تو جھٹ بعض آدمی کہنے لگیں گے کہ دیکھو! یہ اب اپنے سلسلہ کے متعلق بیان کرنے لگا ہے۔یہ عدم رواداری کی مثال ہو گی۔میں کہتا ہوں کہ اس سے ڈرتے کیوں ہو؟ پس کبھی اختلاف رائے سے نہ تو گھبراؤ اور نہ بے جا جوش میں آکر عدم رواداری کا ثبوت دو۔ہم کبھی اختلاف رائے سے گھبراتے نہیں۔میں تو قادیان میں اپنی مسجد میں آریوں کو بُلا کر بھی اجازت دے دیتا ہوں کہ جو تم کہنا چاہتے ہو کہو اور اعتراض کرو ہم اس سے کبھی ڈرتے نہیں اور نہ جوش میں آتے ہیں اس لئے کہ ہمارے پاس ان کے اعتراضوں کے جوابات ہیں۔