انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 614 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 614

۶۱۴ انہیں تسلیم نہ کرتی تو اس کی مرضی تھی- ہمارے مطالبات پھر بھی موجود رہتے اور ہم ہر وقت ان پر زور دے سکتے تھے- دوسری غلطی دوسری غلطی انہیں یہ لگی ہے کہ انہوں نے اپنے متعلق یہ خیال کر لیا کہ وہ بطور جج کے اس کمیٹی کے ممبر بنے تھے اور اس وجہ سے جس طریق کے متعلق انہوں نے خیال کیا کہ اس سے سمجھوتے کی صورت نکل آئے گی اسے پیش کر دیا- حالانکہ وہ جج نہ تھے بلکہ وکیل تھے- اور ایک وکیل کی حیثیت میں ان کا فرض تھا کہ وہ ان لوگوں کے خیالات کی ترجمانی کرتے جن کے وہ وکیل تھے- دیانت اور ا مانت کا تقاضا ہوتا ہے کہ وکیل اپنے موکل کی ترجمانی کرے اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتا تو اپنے عہدہ سے استعفاء دیدے- مسلمان ممبران ہرگز یہ نہیں کہہ سکتے کہ مسلمانوں کے لئے درواز ہ کھلا ہے کہ وہ ان کے خیالات کر تردید کریں- اور یہ ظاہر کریں کہ انہوں نے مسلمانوں کے خیالات کر ترجمانی نہیں کی- بے شک مسلمانوں کے لئے یہ درواز ہ کھلا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آئینی طرز حکومت میں عوام کی رائے کون سی سمجھی جایا کرتی ہے- آیا وہ رائے جو اس کے آئینی نمائندے ظاہر کرتے ہیں یا وہ رائے جو پبلک جماعتیں ظاہر کیا کرتی ہیں کونسلوں کے ممبر ہرگز اس امر سے ناواقف نہیں ہو سکتے کہ آئینی حکومت کے قیام کے بعد پبلک مجالس کی رائے کونسلوں کے نمائندوں سے بہت کم وزن دار خیال کی جاتی ہے- چنانچہ گورنمنٹ آف انڈیا متواتر اس امر کا اظہار کر چکی ہے کہ اسمبلی کے نمائندوں کی رائے کو ہم ملک کی رائے سمجھیں گے کیونکہ وہ منتخب شدہ نمائندے ہیں- پس ان حالات میں مسلمان نمائندے ہرگز یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کی رائے کو ذاتی رائے سمجھ لیا جائے- جن لوگوں کے پاس ان کی رائے جائے گی، وہ ہرگز اسے ذاتی رائے قرار نہیں دیں گے بلکہ ملکی مجالس کی رائے پر ان کی رائے کو ترجیح دیں گے اور اسے پبلک کی حقیقی آواز قرار دیں گے- لیکن انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ پبلک کی حقیقی آواز نہیں ہے- بلکہ جس حد تک بھی ہمارے ملک کے حالات کے مطابق پبلک کی رائے معلوم کی جا سکتی ہے، پبلک کی رائے ان کے خلاف ہے حتی کہ اکثر ممبران کونسل کی رائے بھی ان کے خلاف ہے- پس جبکہ گورنمنٹ برطانیہ نے آئینی دستور کے مطابق ان کی رائے ہی کو پبلک کی رائے قرار دینا تھا تو ان کا دیانتدارانہ فرض تھا کہ اگر پبلک