انوارالعلوم (جلد 10) — Page 615
۶۱۵ کی رائے کے مطابق جو ان سے پوشیدہ نہ تھی، وہ رائے نہیں دے سکتے تھے تو ممبری سے استعفاء دے دیتے- اور اگر وہ پبلک کی رائے کے ساتھ اختلاف نہیں رکھتے تھے یا شدید اختلاف نہیں رکھتے تھے تو ان کو چاہئے تھا کہ وہ پورے زور سے مسلمانوں کے مطالبہ کو پیش کرتے اور کسی دوسرے شخص کی بات کو قبول نہ کرتے- مگر افسوس کہ انہوں نے دونوں باتوں میں سے ایک کو بھی قبول نہ کیا- تیسری غلطی تیسری غلطی جو ان صاحبوں کو معلوم ہوتا ہے یہ لگی کہ انہوں نے خیال کر لیا کہ جس قدر مطالبات کو کم کیا جائے، اسی قدر وہ معقول معلوم ہوں گے اور ان کے منظور ہونے کا زیادہ احتمال ہو گا- حالانکہ یہ اصل بالکل غلط ہے- یہ اصل صرف دیندار، خدا ترس لوگوں کے سامنے چلتا ہے- جو لوگ موجودہ سیاسیات کی دلدل میں پھنس رہے ہیں، وہ اس اصل کو نہیں جانتے- ان کے پیش نظر تو صرف یہ بات ہوتی ہے کہ جو مطالبہ بھی پیش کیا جائے، اس کے متعلق سودا کیا جائے- آپ اگر اپنے حق سے پچاس فیصدی بھی کم کر کے پیش کر دیں گے تو فیصلہ کرنے والا امن کو قائم رکھنے اور دونوں فریق کے خیالات سمونے کے نام سے انہیں اور کم کر دے گا- سکھوں پر لوگ ہنستے ہیں- لیکن انہوں نے نہایت عقلمندی سے کام کیا کہ تیس فیصدی کا مطالبہ کیا- وہ جانتے ہیں کہ اگر ان کا پروپیگنڈہ کامیاب ہوا تو وہ اس مطالبہ کی وجہ سے بیس فیصدی تو لے ہی لیں گے- اصل میں تو مسلمانوں کو پنجاب میں ساٹھ فیصدی کا مطالبہ کرنا چاہئے تھا اور پورے زور سے اس پر قائم رہنا تھا- اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ان کو ان کے حق کے قریب قریب مل جاتا- مگر اپنے حق سے تو ذرہ بھر بھی کم کا مطالبہ ان کے لئے زہر ہے- اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اگر اس زہر کا ازالہ نہ ہوا تو جو انہوں نے مانگا ہے، وہ بھی ان کو نہ ملے گا- چوتھی غلطی چوتھی غلطی مسلم ممبران کو یہ لگی ہے کہ انہوں نے پنجاب کے حالات کو مدنظر نہ رکھتے ہوئے یہ سمجھ لیا ہے کہ جب وہ علیحدہ نمائندگی کا مطالبہ کرتے ہیں تو انصاف چاہتا ہے کہ پھر وہ پورے حق کا مطالبہ نہ کریں کیونکہ یہ انصاف کے خلاف ہے کہ وہ قانون کے زور سے ایک زبردست اکثریت حاصل کر لیں- حالانکہ انہیں یہ سمجھنا چاہئے تھا کہ اگر حالات علیحدہ نمائندگی کا مطالبہ نہیں کرتے تو خواہ مسلمان اس ذریعہ سے اقلیت کا ہی مطالبہ کرتے، یہ ناجائر ہوتا- لیکن اگر زبردست اقلیت کے اپنے پیدا کردہ حالات سے مجبور ہو کر تعداد کے لحاظ سے زیادہ، لیکن سیاستاً کمزور اکثریت علیحدہ انتخاب کا صرف تھوڑے سے عرصہ کے لئے مطالبہ کرتی ہے تو یہ انصاف کے مخالف نہیں- بلکہ بالکل مطابق ہے کہ وہ اپنی تعداد کے