انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 502 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 502

۵۰۲ علوم طبعیہ کے خلاف باتیں پیش کرتا ہے- چونکہ خدا تعالیٰ کا قول اس کے فعل کے خلاف نہیں ہو سکتا اس لئے یہ ثابت کرنا بھی ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام اس کے کسی فعل کے خلاف نہیں ہے- اس میں ایسی سچائیاں ہیں جو پہلے لوگوں کو معلوم نہ تھیں- اور انہیں علوم طبعیہ کے خلاف قرار دیا جاتا تھا مگر اب انہیں درست قرار دیا جاتا ہے- قرآن کریم کے روحانی کمالات (۱۸)یہ بھی ثابت کرنا ہو گا کہ قرآن کریم میں کیا کمالات ہیں اور قرآن کریم بنی نوع انسان کو کس اعلیٰ روحانی مقام پر پہنچانے کے لئے آیا ہے- آخری شرعی کلام (۱۹)یہ بھی ثابت کرنا ہو گا کہ قرآن خدا تعالیٰ کا آخری شرعی کلام ہے- لوگ کہتے ہیں جب تم یہ مانتے ہو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیشہ کلام نازل ہوتا رہا ہے تو اب شرعی کلام کا آنا کیوں بند ہو گیا- اس کے لئے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ اب کسی اور شرعی کلام کی ضرورت نہیں- عربی زبان اختیار کرنے کی وجہ (۲۰)پھر اس امر پر بحث کرنا بھی ضروری ہے کہ قرآنکریم کے لئے عربی زبان کیوں اختیار کی گئی کیوں فارسی، سنسکرت یا کوئی اور زبان اختیار نہ کی گئی؟ پہلی تعلیموں کے نقائص کا اصولی رد اور صحیح اصول کا بیان (۲۱)پھر جب قرآنکریم ساری دنیا کے لئے آیا ہے اور تمام پہلی مذہبی تعلیموں کا قائم مقام ہے تو یہ ثابت کرنا بھی ضروری ہو گا کہ ان تعلیموں میں جو نقائص تھے ان کو اصولی طور پر قرآن کریم نے دور کر دیا ہے اور ان کی جگہ صحیح اصول قائم کئے ہیں- قرآن کریم کی سچائی کے ثبوت (۲۲)پھر قرآن کریم کی سچائی کے ثبوت بھی پیش کرنے ہونگے کہ اس کے خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے کے یہ یہ ثبوت ہیں- قرآن کریم کے اثرات (۲۳)قرآن کریم کے اثرات پر بھی بحث کرنی ہو گی-