انوارالعلوم (جلد 10) — Page 501
۵۰۱ انسان اپنی سمجھ اور اپنے علم کے مطابق فہم قرآن حاصل کر سکے- قرآن کریم کو پہلی کتب کا مصدق کن معنوں میں کہا گیا ہے؟ ( ۱۳)ایک سوال یہ بھی ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں قرآن اس لئے پہلی کتب کا مصدق ہے کہ ان کتابوں کی نقل کرتا ہے- اس نقل کے الزام سے بچنے کے لئے کہا گیا ہے کہ قرآن ان کا مصدق ہے- ہم کہتے ہیں بے شک قرآنان کی تصدیق کرتا ہے- مگر ان کے خلاف بھی تو کہتا ہے- اب ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم ثابت کریں کہ قرآن دوسری کتابوں سے کیا نقل کرتا ہے اور کیا چھوڑتا ہے؟ اور جو بات نقل کرتا ہے- اسے پہلی کتاب سے زائد بیان کرتا ہے یا نقل کرتے ہوئے پہلی کتابوں سے اختلاف کرتا ہے- ایسی صورت میں کیا وجہ ہے کہ ہم قرآن کی بات کو صحیح مانیں- پرانے واقعات کے بیان کرنے کی غرض (۱۴)پھر قرآن میں پرانے واقعات بیان کئے گئے ہیں- ان کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کو کیوں بیان کیا گیا ہے- کیا قرآن قصے کہانیوں کی کتاب ہے؟ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ہی کفار کی طرف سے کہا گیا تھا کہ ان ھذا الا اساطیر الاولین ۱؎قرآن تو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں- قَسموں کی حقیقت (۱۵)یہ سوال بھی شبہات پیدا کرتا ہے کہ قرآن کریم میں قسمیں کیوں کھائی گئی ہیں؟ قسموں سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کلام بنایا اور وہ یہ بات بھول گئے کہ اسے خدا کا کلام قرار دے رہے ہیں- اس لئے قسمیں کھانے لگے- اس قسم کے شبہات دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بتایا جائے کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں بھی قسمیں ہوتی ہیں اور ان کی کیا وجہ ہوتی ہے؟ معجزات پر بحث (۱۶)اسی طرح یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن کریم میں بار بار اس بات پر زور دینا کہ کوئی نشان دکھانا رسول کے اختیار میں نہیں- جب خدا چاہتا ہے نشان دکھاتا ہے- دراصل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پردہ پوشی کے لئے ہے- اس کے متعلق یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ سارے کا سارا قرآن نشانات کا مجموعہ ہے- خدا تعالیٰ کے قول اور فعل میں کوئی تضاد نہیں (۱۷)اسی طرح قرآن کریم کے متعلق کہا جاتا ہے کہ سائنس اور