انوارالعلوم (جلد 10) — Page 448
۴۴۸ یہ کہ اس طرح قوموں کا خوف چونکہ دور ہو جائے گا- اور ایک دوسرے سے حق تلفی کا خطرہ جاتا رہے گا اس لئے تعلقات زیادہ درست ہو جائیں گے- دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ ووٹوں کی محتاج قوم نہیں ہوا کرتی بلکہ افراد ہوتے ہیں- کسی جگہ کی ممبری کے لئے زید اور بکر جو دو شخص کھڑے ہونگے، ان کو اس بات سے کوئی اطمینان حاصل نہیں ہوتا کہ گورنمنٹ نے مسلمان کے لئے سیٹ محفوظ کر دی ہے- گورنمنٹ مسلمان کے لئے سیٹ محفوظ کرے گی نہ کہ کسی شخص کیلئے- پس ہر امیدوار اپنی تائید کے لئے ایک ایک ووٹ کا محتاج ہوگا- اور لازماً اپنے حریف پر برتری حاصل کرنے کیلئے ہر اک ممبر کی مدد حاصل کرنیکی کوشش کرے گا- پس یہ دعویٰ بھی بالکل باطل ہے- کہ محفوظ نشستوں کی وجہ سے اکثریت اقلیت کی محتاج نہ رہے گی- احتیاج امیدوارں کو ہوتی ہے نہ کہ قوم کو اور ان کی احتیاج ہر صورت میں قائم رہے گی- اور ان کی احتیاج کے ساتھ ان کے ہمدردوں کو بھی احتیاج ہوگی- اور اس طرح بالواسطہ طور پر ساری اکثریت ہی کسی نہ کسی امیدوار کی کامیابی کی خاطر اقلیت کی محتاج ہو جائے گی- پس محفوظ نشستیں منافرت قومی کے دور کرنے کے راستہ میں ہر گز روک نہیں ہیں- تیسری دلیل کا ردّ تیسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر محفوظ نشستیں کر دی جائیں تو رسپانسیبل گورنمنٹ (RESPONSIBLEGOVERNMENT) کا اصول باطل ہو جاتا ہے- کیونکہ اس صورت میں ہم منتخب کرنیوالی جماعتوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنا نمائندہ فلاں دائرہ سے چنیں اور اس کے باہر نہ جائیں- تو گویا اکثریت بوجہ ایک قانونی حد بندی کے حکومت کرتی ہے نہ کہ آزاد انتخاب کی وجہ سے- اور اگر یہ بات حاصل ہوئی تو نیابتی حکومت کی اصل غرض ہی فوت ہو گئی- میرے نزدیک یہ سوال سیاسی طور پر بہت اہم ہے- اگر نتیجہ وہی پیدا ہوتا ہو جو کمیشن نے نکالا ہے تو یقیناً یہ بحث یہیں ختم ہو جاتی ہے- مگر میرے نزدیک نتیجہ نکالنے میں کمیشن نے غلطی کی ہے- کیونکہ اول تو وہی سوال ہے کہ کیا جس خیال کی نمائندگی ایک ہندو کر سکتا تھا اسی خیال کی نمائندگی کرنے والا کوئی مسلمان نہیں مل سکتا- اگر نہیں تو معلوم ہوا کہ ہئیت انتخابی اس خیال کے مخالف ہے- اور اگر انتخاب کرنے والے ایک خیال کے مخالف ہیں تو ہندو کے کھڑا ہونے سے نیابت زیادہ کس طرح ہو جائے گی جب تک کہ ناجائز وسائل استعمال نہ کئے