انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 449

۴۴۹ گئے ہوں- اور ناجائز وسائل بہرحال ناجائز ہیں- دوسرا جواب یہ ہے کہ اس میں کیا شک ہے کہ مختلف ضرورتوں کے لحاظ سے انتخاب کرنے والوں کے حق کو محدود کر دیا جاتا ہے- مثلاً خود نہرو کمیٹی نے بعض صوبوں میں مسلمان اقلیتوں اور بعض میں ہندو اقلیتوں کے حق میں حقوق محفوظ کر کے اکثریت کے انتخاب کے حق کو محدود کر دیاہے- اسی طرح مثلاً ممبروں کیلئے عمر کی نہرو کمیٹی نے شرط لگائی ہے کہ اکیس سالہ آدمی ووٹ دے سکتا ہے- اور چونکہ کوئی اور قید موجود نہیں، معلوم ہوا کہ اسی عمر کا آدمی ممبر منتخب ہو سکے گا- یہ بھی ایک قید ہے اکیس سال سے پہلے بھی کئی لوگ صاحب عقل و فہم ہو جاتے ہیں- پھر انتخاب کرنے والوں کیلئے یہ قید کیوں لگائی گئی ہے- اسی طرح گو مجھے سکیم میں نظر نہیں آیا لیکن جیسا کہ دوسرے ملکوں میں ہوتا ہے، ہندوستانیقومیت کی بھی ممبر کیلئے شرط ہوگی- کیونکہ سب مہذب ملکوں میں یہ قید موجود ہے- لیکن کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک ایسا خیر خواہ شخص انتخاب کرنے والوں کو مل جائے جو باوجود غیرہندوستانی ہونے کے ہندوستانیوں کا خیر خواہ ہو یا وہ ہندوستانی بننا تو چاہتا ہو لیکن قواعد اس کے ہندوستانی بننے میں کچھ عرصہ کیلئے روک ہوں- غرض انتخاب کے دائرہ کو اب بھی نہرو کمیٹی نے محدود کیا ہے- اور قانون اساسی کے مکمل ہونے پر اور بھی یہ دائرہ محدود کرنا پڑے گا- پس معلوم ہوا کہ حد بندی کر دینا نیابتیگورنمنٹ کے اصول کے مخالف نہیں، بلکہ ناجائز حد بندی کرنا اصول نیابت کے خلاف ہے اور جب کہ ایک صوبہ کی اکثریت ایک حق کا مطالبہ کرتی ہے اور مطالبہ بھی وہ جس میں دوسرے کے حق کو تلف نہیں کیا جاتا تو ایسی حد بندی کو ناجائز کیونکر کہا جا سکتا ہے اور جب وہ ناجائز نہیں تو وہ نیابت کے قانون کو تلف کرنے والی بھی نہیں- زیادہ سے زیادہ جو کچھ اس طریق انتخاب کے متعلق کہا جا سکتا ہے- وہ یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ ملک کے سب حصے مل کر اپنے نمائندے منتخب کریں- ملک کے مختلف حصے اپنے اپنے حلقوں میں انتخاب کریں گے- پس نمائندگی موجود ہے، صرف اس کی شکل بدلی ہے- اور شکلوں کے لحاظ سے تو دنیا کی تمام مہذب حکومتوں کے انتخاب کے طریق کا آپس میں اختلاف ہے-