انوارالعلوم (جلد 10) — Page 427
۴۲۷ مسلمانوں کے مطالبہ سے کسی کے حقوق کا اتلاف نہیں اب رہا یہ سوال کہ کیا یہ مطالبہ جائز ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حقوق کے لحاظ سے بھی اور سیاست کے لحاظ سے بھی یہ مطالبہ بالکل جائز ہے حقوق کے لحاظ سے اس لئے کہ اس میں کسی کے حق کا اتلاف نہیں- صوبہ سرحدی کو نیابتی حکومت نہ دینے میں سرحدیوں کے حقوق کا اتلاف ہے- اسی طرح سندھ جس کی نسبت خود رپورٹ والے تسلیم کر چکے ہیں- کہ اس کی زبان علیحدہ ہے- اس کا تعلق بمبئی سے مصنوعی ہے- بمبئی تک لوگوں کا پہنچنا بہت مشکل ہے- اس کی آزادی میں کسی کا حق کس طرح مارا جا سکتا ہے- اگر حق مارا جاتا ہے تو سندھ کو الگ نہ کرنے کی صورت میں سندھیوں کا مارا جاتا ہے- بلوچستان پہلے ہی ایک علیحدہ صوبہ ہے پس اسے نیابتی حق دینے میں کسی کا کوئی نقصان نہیں ہے- سندھ کی آزادی اور ہندو دو باتیں ہیں جنہیں پیش کیا جا سکتا ہے- ایک تو یہ کہ اس تغیر میں ان ہندوؤں کا نقصان ہے جو ان صوبوں میں بستے ہیں- کیونکہ اس طرح مسلمانوں کے ہاتھوں انہیں نقصان پہنچنے کا احتمال ہے- لیکن یہ کوئی نقصان نہیں- اگر یہ دلیل درست ہے تو پھر بمبئی، مدراس، یوپی، بہار وغیرہ صوبوں کو بھی حق نہیں ملنے چاہئیں- کیونکہ وہاں مسلمانوں کی اقلیت کو ایسا ہی خوف ہو سکتا ہے- بلکہ حق یہ ہے کہ کہ مسلمانوں کو زیادہ خوف ہے- کیونکہ مرکزی حکومت گو فیڈرل اصول پر ہو پھر بھی ایک بہت بڑا وزن رکھے گی اور اس میں اکثریت ہندوؤں کی ہوگی- دوسری بات یہ کہی جا سکتی ہے کہ سندھ پر بمبئی کا بہت کچھ روپیہ خرچ ہو چکا ہے، اس لئے اسے آزادی کا حق نہیں- یہ جواب بھی درست نہیں- یہ تو ویسا ہی جواب ہے جیسا کہ بعض انگریز کہتے ہیں کہ ہندوستان میں ہمارے تاجر ہیں- ہم سرمایہ لگا چکے ہیں، اس لئے اسے آزادی نہیں ملنی چاہئے- اگر سندھ پر بمبئی کا اس قدر بھی خرچ ہو رہا ہوتا تو آج بمبئی کے ہندو سندھ کی آزادی پر سب سے زیادہ زور دینے والے ہوتے- مگر وہ سب سے زیادہ سندھ کو قابو رکھنا چاہتے ہیں- جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ گو ظاہر میں بمبئی سندھ پر روپیہ خرچ کر رہا ہے، لیکن اصل میں وہ اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں- کیا اس میں شک ہے کہ کراچی جیسا بندر موجود ہوتے ہوئے سندھ مالی ترقی نہیں کر سکا- اور کیا اس کی یہی وجہ نہیں کہ بمبئی سندھ سے فائدہ حاصل کر رہا تھا- اور نہیں چاہتا تھا کہ