انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 426

۴۲۶ ایسی ہی تحریک شروع ہو گئی ہے جس کا روکنا مسلمانوں کے اختیار میں نہیں ہے- پس نہرورپورٹ کے نتیجہ میں ایک نیم آزاد سندھ ایک ہندو بنگال ایک ہندو پنجاب مسلمانوں کو دیا گیا ہے- باقی رہے صوبہ سرحدی اور بلوچستان، سو بلوچستان کا معاملہ مشکوک ہے- اگر وہ آزاد بھی کر دیا جائے تو دو چھوٹے چھوٹے صوبے مسلمانوں کے قبضہ میں رہ گئے جو زیادہ سے زیادہ ایک عبرتناک ہجرت کے لئے راستہ کا کام دے سکتے ہیں- اور مسلمانوں کو یہ یاد دلانے کے کام آئیں گے کہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے تمہیں دیا تھا اسے آنکھیں بند کر کے کھو دینے کی سزا میں اب تم ادھر سے ہی واپس چلے جاؤ جدھر سے تم آئے تھے- ‏ مسلمانوں کے مطالبہ کی معقولیت مسلمانوں کے مطالبہ اور نہرو رپورٹ کی تجویز میں فرق بتانے کے بعد اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کیا مسلمانوں کا مطالبہ ضروری تھا- سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس امر کی ضرورت کو تمام دنیا تسلیم کر چکی ہے کہ جن اقوام کے مذہب اور تمدن میں اختلاف ہو، انہیں آزاد نشو ونما کا موقع ضرور ملنا چاہئے ورنہ فساد اور فتنہ کا دروازہ وسیع ہو جاتا ہے- اور صلح اور امن حاصل نہیں ہوتا- یورپ میں جہاں جہاں زبان اور تمدن کا اختلاف ہے- ان علاقوں کو الگ علاقہ کی صورت میں نشو ونما پانے کا موقع دیا جاتا ہے- زیکوسلویکا کا واقعہ میں پہلے لکھ چکا ہوں- اس میں روتھینیا کو الگ اور اندورنی طور پر آزاد حکومت عطا کی گئی ہے- ریاستہائے متحدہ کی ریاستوں کا قیام بھی اسی اصل پر ہے کہ چونکہ وہ الگ الگ پہلے سے قائم تھیں اور ہر اک کا ایک خاص طریق تمدن قائم ہو چکا تھا اور مذہب کا بھی اختلاف تھا، اس لئے ریاستوں کو توڑ کر ایک حکومت قائم کرنے کی بجائے انہیں علیحدہ ہی رہنے دیا گیا پس یہ مطالبہ بالکل عقل کے مطابق ہے- اور اس کی ضرورت مسلمانوں کو یہ ہے کہ وہ اپنے مخصوص تمدن اور اپنی روایات کو قائم رکھ سکیں اور ان کی قومی روح تباہ نہ ہو جائے- جو ضرورت ہندوستان کو انگریزی اثر سے آزاد ہونے کی ہے وہی ضرورت مسلمانوں کو ان کی کثرت رکھنے والے صوبوں میں ایک حد تک آزاد رہنے میں ہے- اگر یہ ضرورت غیر حقیقی ہے تو پھر ہندوستان کی آزادی کی ضرورت بھی غیر حقیقی ہے- مگر میں تفصیل سے اس بحث پر یہاں نہیں لکھ سکتا، کیونکہ اس کے دلائل محفوظ نشستوں کی ضرورت کے دلائل سے ملتے ہیں اور اس کا ذکر آئندہ ہوگا پس اس جگہ میں اس پر زیادہ تفصیل سے بحث کروں گا-