انوارالعلوم (جلد 10) — Page 409
۴۰۹ کرتی ہو کہ اقلیت کی بیداری سے اسے نقصان پہنچے گا- پس وہ ہمیشہ کوشش کرتی ہے کہ اقلیت غافل ہی رہے- یہ وجہ بھی اس وقت پیدا ہے- جس طرح یورپ کی بہت سی دولت ایشیا کی غفلت کی وجہ سے ہے، اسی طرح ہندوؤں کی بہت سی دولت مسلمانوں سے براہ راست یا بالواسطہ آتی ہے- مسلمان تاجر نہیں، اس لئے سب تجارت کا نفع ہندو اٹھا رہے ہیں، مسلمان کارخانہ دار نہیں اس لئے صنعت و حرفت کا نفع بھی ہندو ہی اٹھا رہے ہیں- مسلمان اعلیٰ پیشہ ور نہیں اس لئے اعلیٰ پیشوں کا فائدہ بھی ہندو ہی حاصل کر رہے ہیں- جیسے وکلاء، ڈاکٹر، انجینیئر وغیرہ- مسلمان بینکر نہیں، پس بنک کے نفع کو بھی ہندو ہی حاصل کر رہے ہیں- مسلمان ٹھیکیدار نہیں پس ٹھیکیداری کے منافع بھی ہندوؤں کو ہی پہنچ رہے ہیں- مسلمانوں میں تعلیم کم ہے، پس گورنمنٹ کے عہدے بھی ہندوؤں کے ہی ہاتھ میں ہیں- مسلمان تعلیم میں پیچھے رہ گئے ہیں، پس یونیورسٹیوں سے بھی ہندو ہی فائدہ حاصل کر رہے ہیں- غرض ہر اک اقتصادی میدان میں مسلمان ہندوؤں سے پیچھے ہیں اور ان کے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے ہندوؤں کو خاص نفع ہو رہا ہے- اب اس حالت میں ہندو خوب سمجھتے ہیں کہ اگر مسلمانوں نے ترقی کی تو ہماری دولت کم ہو جائے گی اور ایک حصہ دولت کا مسلمان لے جائیں گے- پس ان حالات میں کوئی عقلمند کس طرح سمجھ سکتا ہے کہ ہندو بہ رضاؤ رغبت مسلمانوں کو آگے بڑھنے دیں گے- کیا مسلمان اپنی مقبوضہ چیزیں ہندوؤں کو بانٹ دیتے ہیں کہ ان سے یہ امید رکھیں کہ وہ اپنی مقبوضہ چیزیں بخوشی مسلمانوں کو دے دیں- پس جب حالات یہ ہیں جو اوپر بیان ہوئے ہیں تو ہر ایک مسلمان کو یہ اندیشہ ہے اور بالکل جائز اندیشہ ہے کہ ہندو برسراقتدار آنے پر پورا زور لگائیں گے کہ مسلمان اپنی غفلت سے بیدار نہ ہوں- اور ضروری ہے کہ پہلے سے ایسے قواعد بنا لئے جائیں کہ ہندو اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکیں اور مسلمانوں کے لئے کام کے دروازے کھلے رہیں- بعض لوگ اس موقع پر نادانی سے یا مسلمانوں کو غافل رکھنے کیلئے یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ترقی کے راستے بہت ہیں ملک ابھی اور ترقی کرے گا- پس مسلمانوں کی ترقی کے راستے مسدود نہیں ہیں- مگر یہ بات احمقانہ ہے دنیا کی ترقی کے بھی بہت سے راستے ہیں- لیکن کیا یہ سچ نہیں ہے کہ یورپ کے لوگ ہندوستان کی صنعتی ترقی کے راستے میں روکیں ڈالتے ہیں- اگر انگریز صناع دور کا فاصلہ پر بیٹھے یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ہندوستان صنعت و حرفت میں ترقی کر