انوارالعلوم (جلد 10) — Page 410
۴۱۰ جائے کیونکہ ڈرتے ہیں کہ اس سے ہمارے مال کو نقصان پہنچے گا تو ہندوستان کے ہندو تاجر کس طرح برداشت کر سکیں گے کہ مسلمان بھی اس میدان میں آگے نکلیں- اسی طرح گورنمنٹ عہدے محدود ہیں اور ان پر ہندو قابض ہیں کیا اس میں کوئی شک ہے کہ جس قدر عنصر مسلمانوں کا گورنمنٹ کے عہدوں میں بڑھایا جائے اسی قدر عنصر ہندوؤں کا کم ہوگا- کیونکہ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مسلمانوں کو عہدے دینے کے لئے کوئی گورنمنٹ ملکی ہو یا غیر ملکی نئے عہدے نکالے- پس کیا یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ ہندو بخوشی خود مسلمانوں کیلئے جگہیں خالی کر دیں گے- اگر ایسا نہیں تو کیا یہ ضروری نہیں کہ ابھی سے ایسے قوانین تجویز ہو جائیں جن سے مسلمانوں کے حقوق محفوظ ہو جائیں- مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے متعلق واقعات کی شہادت اس وقت تک تو میں نے اصولاً اس امر کی بحث کی تھی کہ ہندوستان میں ایسے حالات موجود ہیں جن کی بنا پر مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے لیکن اب میں مختصراً واقعات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بھی ہمیں مجبور کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کا خاص خیال رکھا جائے- میں نہیں سمجھتا کہ کوئی مسلمان بھی اس امر کا انکار کرے گا کہ ہندو مسلم تعلقات وہ نہیں ہیں جو ہونے چاہئیں یا یہ کہ تعصب دونوں اقوام میں کام نہیں کر رہا گورنمنٹ کی ملازمتوں کو لے لو- شروع سے لیکر آخر تک ہندو عنصر غالب ہے- مسلمان اپنے جائز حقوق سے محروم کئے جا رہے ہیں جو شخص کسی نہ کسی سبب سے ملازمت میں آ بھی جاتا ہے تو ہندو عملہ اس کے نکالنے کے درپے رہتا ہے- چند دن ہوئے بنگال کے ایک مسلمان ممبر کونسل نے نہایت لطیف پیرایہ میں یہ بات بیان کی تھی کہ تعجب ہے کہ ایک مسلمان ملازم ایک ہندو افسر کے ماتحت آکر فوراً نالائق ہو جاتا ہے لیکن ایک انگریر افسر کے نیچے جا کر لائق بن جاتا ہے- ہم پنجاب میں بھی اس کی سینکڑوں مثالیں پیش کر سکتے ہیں کہ نہایت لائق مسلمان جن کی انگریز افسروں نے بے حد تعریف کی تھی، ہندو افسروں کے ماتحت آکر بالکل نالائق بن گئے بعض ہندو مسلمانوں کو بیوقوف بنانے کیلئے کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ انگریزوں کی چال ہے وہ ہمیں آپس میں لڑاتے ہیں مگر میں پوچھتا ہوں کہ دیکھنا یہ چاہئے کہ اس کارروائی میں ہندوؤں کا فائدہ ہے یا انگریزوں کا اگر ہندوؤں کا فائدہ ہے تو کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ انگریز ایسا کرتے ہیں- دوسرے یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا