انوارالعلوم (جلد 10) — Page 295
۲۹۵ دے، مگر انسان نہ چھوڑے- اس کا نام ہم جبری قربانی رکھ لیتے ہیں- اور دوسری قربانی یہ ہے کہ انسان کے پاس مال ہو اور وہ دوسروں کے فائدہ کے لئے اپنی مرضی سے اسے خرچ کرے- اس کا نام ہم طوعی قربانی رکھ لیتے ہیں- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتلا دونوں ہی قسم کے تھے- آپ پر لوگوں نے جبر کیا- اس لئے کہ آپ صداقت کو چھوڑ دیں- مگر آپ نے اسے نہ چھوڑا اسی طرح آپ نے بہت سی قربانیاں ایسی کیں کہ جن کے لئے واقعات نے آپ کو مجبور نہیں کیا تھا- پھر ان دونوں قسموں کی بھی آگے دو قسمیں ہیں-: (۱) استکراہی یعنی ایسی قربانی جو انسان واقعات سے مجبور ہو کر پیش کرتا ہے- مگر اس کا دل اسے ناپسند کرتا ہے- اور (۲) رضائی- یعنی ایسی قربانی کہ انسان واقعات سے مجبور ہو کر اسے پیش کرتا ہے- مگر پھر بھی اس کا دل اسے پسند کرتا ہے- امر اول کی مثال جنگ ہے کہ نیک لوگ اسے ناپسند کرتے ہیں- لیکن پھر بھی دنیا کے نفع کے لئے اسی ناپسندیدہ شے کو قبول کر لیتے ہیں- اور دوسری مثال لوگوں کی تعلیم کے لئے مال اور وقت خرچ کرنا ہے کہ اس قربانی کو وہ خوشی سے اور رغبت قلبی سے دینا پسند کرتے ہیں یا قوم کی راہ میں موت ہے کہ اپنے آپ کو خود تو ہلاک نہیں کرتے- جب جان دیتے ہیں تو لوگوں کے فعل کے نتیجہ میں دیتے ہیں مگر خواہش رکھتے ہیں کہ خدا کی راہ میں موت آئے- پس یہ قربانی گو جبری ہے مگر ہے رضائی، یعنی دل اسے پسند کرتا ہے- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیاں دونوں ہی قسم کی تھیں- آپ نے وہ قربانیاں بھی کیں جو استکراہی تھیں- یعنی لوگوں کے نفع کے لئے آپ نے ایسے کام کئے کہ جو آپ کو ذاتی طور پر ناپسند تھے- مگر دنیا کے نفع کے لئے آپ نے اپنے میلان کو قربان کر دیا جیسے آپ کی جنگوں میں شرکت اور ایسی قربانیاں بھی کیں کہ جنہیں آپ طبعاً پسند فرماتے تھے- جیسے مال اور آرام کی قربانیاں- پھر قربانیوں کی یہ قسمیں بھی ہیں- ایک وہ قربانیاں جو کسی عارضی مقصد کے لئے ہوں- دوسری وہ قربانیاں جو کسی دائمی صداقت کے لئے ہوں- دوسری قسم کی قربانیاں اعلیٰ ہوتی ہیں- کیونکہ وہ تمام ذاتی نفعوں کے خیال سے بالا ہوتی ہیں- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیاں جیسا کہ آپ لوگ دیکھیں گے اسی قسم کی تھیں- آپ نے کسی عارضی مقصد کے لئے قربانیاں نہیں کیں- بلکہ دائمی صداقتوں اور بنی نوع انسان کی ابدی ترقی کے لئے قربانیاں کی ہیں- پس