انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 296

۲۹۶ آپ کی قربانیاں کیا بلحاظ نیت کے اور کیا بلحاظ مقصد کے اور کیا بلحاظ قربانی کی کمیت اور کیفیت کے نہایت عظیم الشان ہیں- بلکہ حیرت انگیز ہیں اور اگلوں اور پچھلوں کے لئے نمونہ- آپ نے خود ہی دنیا کے دائمی نفع کیلئے اور دائمی صداقتوں کے قیام کے لئے خوشی سے قربانیاں نہیں کیں- بلکہ آپ نے اپنے اتباع کو بھی یہی تعلیم دی کہ وہ بھی خوشی سے قربانیاں کریں تاکہ دنیا ترقی کرے- چنانچہ آپ خدا تعالیٰ سے حکم پا کر فرماتے ہیں-ولنبلونکم بشی من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرت- وبشر الصبرین- الذین اذا اصابتھم مصیبہ قالوا انا للہ وانا الیہ رجعون- ۳۷؎ ہم ضرور تمہارے ایمان کے کمال کو ظاہر کریں گے- اس طرح سے کہ تمہیں ایسے مواقع میں سے گذرنا پڑے گا کہ تمہیں صداقتوں کے لئے خوف اور بھوک کا سامنا ہوگا اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا- پس جو لوگ ان مشکلات کو خوشی سے برداشت کریں گے اور کہیں گے کہ خدا کی چیز خدا کی راہ میں قربان ہو گئی، انہیں خوشخبری دے کہ ان کی یہ قربانیاں ضائع نہ ہونگی- قربانیوں کی شِقّیں جس طرح قربانیاں کئی اقسام کی ہوتی ہیں اسی طرح وہ کئی شقوں کی بھی ہوتی ہیں مثلاً(۱)شہوات کی قربانی- یعنی شہوات کو مٹا دینا (۲)جذبات کی قربانی- یعنی جذبات کو مٹا دینا- (۳)مال کی قربانی- (۴)وطن کی قربانی یعنی وطن چھوڑ دینا (۵)دوستوں کی قربانی- (۶)رشتہ داروں کی قربانی- یعنی خدا کے لئے ان کو چھوڑ دینا- (۷)عزت کی قربانی- یعنی خدا تعالیٰ اور دائمی صداقتوں کے لئے ذلت کو برداشت کرنا یا عزت حاصل کرنے کے مواقع کو چھوڑ دینا- )۸(آرام کی قربانی )۹(آسائش کی قربانی- (۱۰) آئندہ نسل کی قربانی- )۱۱(رشتہ داروں کے احساسات کی قربانی )۱۲(اپنی جان کی قربانی- )۱۳(دوستوں کے احساسات کی قربانی- اب میں یہ بتلاتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب قسم کی قربانیاں کی ہیں- شہوات کی قربانی ۱(شہوات کی قربانی اس سے ثابت ہے کہ آپ نے جوانی کی عمر میں ایک ادھیڑ عمر کی عورت سے شادی کی- اور آپ کی زندگی بتاتی ہے کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ چاہتے تھے کہ آپ کی بیوی آپ کو اپنی طرف مائل نہ رکھے بلکہ آپ دنیا کی ترقی کے متعلق کوششوں میں مشغول رہ سکیں- جس وقت آپ نے یہ شادی کی ہے، اس وقت