انوارالعلوم (جلد 10) — Page 282
۲۸۲ پیدا کیا ہے، جس طرح اس نے اپنا کلام نازل کیا ہے- پس اگر مثلاً گرمی کے خواص پر غور کیا جائے تو یہ خدا تعالیٰ کے فعل پر غور ہوگا نہ کہ مذہب کے مخالف- غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مذہب اور سائنس میں صلح کرا دی اور آپ نے فرمایا طلب العلم فریضہ علی کل مسلم و مسلمہ ۲۰؎علم مذہب کے خلاف نہیں- میرے ہر ماننے والے پر خواہ وہ مرد ہو یا عورت فرض ہے کہ علم پڑھے- اس وقت غیر مذاہب والے کہتے ہیں کہ مسلمان جاہل ہیں- مگر یہ ہمارا قصور ہے- ہمارے رسول کا نہیں ہے- اس اعتراض سے ہم شرمندہ ہوتے ہیں اور ہماری آنکھیں نیچی ہو جاتی ہیں- مگر اس سے ہمارے رسول پر کوئی حرف نہیں آتا کیونکہ اس وقت جب کہ مکہ والے علم حاصل کرنا ذلت سمجھتے تھے اور سارے مکہ میں صرف سات آدمی پڑھے لکھے تھے اور ان کو بھی صرف سیاسی ضرورتوں کی وجہ سے علم پڑھنے کی اجازت دی گئی تھی- آپ نے یہ فیصلہ فرمایا تھا کہ طلب العلم فریضہ علی کل مسلم و مسلمة پڑھنا لکھنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے- پس اگر آج کل مسلمان جاہل ہیں تو یہ قصور ہمارا ہے- ہمارے آقا کا نہیں ہے- اس نے یہی تعلیم دی ہے کہ علم سیکھنا ہر مسلمان کا فرض ہے- اور یہ اسی کا نتیجہ ¶تھا کہ مسلمانوں نے پچھلے علوم کو قائم رکھا اور نئے علوم کی بنیاد ڈالی جن سے آج دنیا فائدہ اٹھا رہی ہے- اگر مسلمان پہلے علوم کی حفاظت نہ کرتے تو ارسطو کا فلسفہ اور بقراط کی حکمت آج کوئی نہ معلوم کر سکتا- مسلمانوں نے ان کی کتب کے ترجمے کرائے اور جب کہ ان حکماء کے اپنے اہل وطن ان سے غافل ہو گئے تھے ان کے درس اپنی یونیورسٹیوں میں جاری کئے اور ان کتب کو محفوظ کر دیا اور پھر ان کے ذریعہ سے یہ علوم اور خود مسلمانوں کے ایجاد کردہ علوم سپین میں پہنچے اور اس وقت جب کہ مسیحی علماء علوم کو پڑھنا کفر قرار دے رہے تھے جس طرح کہ آج کل بعض لوگ علوم جدیدہ کا پڑھنا کفر قرار دے رہے ہیں- مسلمانوں کے ذریعہ سے یورپ کے نوجوانوں نے علوم کو سیکھا اور پھر ان پر مزید ترقی کر کے آج کل کے علوم کی بنیاد رکھی- چنانچہ ایک یورپین مصنف لکھتا ہے کہ اہل یورپ کب تک دنیا کی آنکھوں میں خاک جھونکتے اور یہ کہتے رہیں گے کہ مسلمانوں نے علم کی خدمت نہیں کی حالانکہ واقعہ یہ ہے اگر سپین میں مسلمانوں کے ذریعہ علوم نہ پہنچتے تو ہم آج جہالت کی نہایت ابتدائی حالت میں ہوتے- غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی تعلیم کا نتیجہ تھا کہ دنیا میں علوم کی ترقی کا وہ تسلسل قائم رہا ہے جس کے بغیر علمی ترقی بالکل