انوارالعلوم (جلد 10) — Page 283
۲۸۳ ناممکن تھی- علم ختم نہیں ہوتا تیسرا احسان آپ کا یہ ہے کہ آپ نے بہ زور اس امر کی تعلیم دی کہ علم کبھی ختم نہیں ہوتا- دنیا میں لوگ ایک حد تک ترقی کر کے جب یہ کہتے ہیں کہ اب ترقی نہیں ہو سکتی تو علم مٹنا شروع ہو جاتا ہے اور تمام علوم اور قوموں کے تنزل کا موجب ہی یہ ہے کہ ایک حد تک پہنچ کر یہ خیال کر لیا جاتا ہے کہ اس سے اوپر اور کیا ترقی ہوگی- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ پہلے شخص ہیں کہ جنہوں نے اس خطرناک مرض کو معلوم کیا اور دنیا کے سامنے پیش کرکے اس سے اسے بچایا اور بڑے زور سے تعلیم دی کہ علم خواہ کوئی ہو کبھی ختم نہیں ہوتا- پس ہمیشہ علم کی تحقیق کرتے رہو اور کبھی کسی جگہ پر ٹھہر نہ جاؤ یہ کتنا بڑا نکتہ ہے- ہم لوگ اپنے ایمان کے لحاظ سے یہی مانتے ہیں کہ آپ سب سے بڑے عالم تھے- آپ سے بڑھ کر نہ کوئی عالم ہوا اور نہ ہوگا- مگر آپ بھی یہ دعا کیا کرتے تھے کہ رب زدنی علما ۲۱؎ اے خدا میرا علم اور بڑھا- اس کا یہ مطلب ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی علم کے انتہائی مقام کو نہیں پہنچ سکے اور خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے غیر محدود راستوں پر برابر آگے ہی آگے بڑھتے رہے اور ہمیشہ اضافہ علم کی خواہش آپ کے دل میں موجزن رہی- پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو علم روحانی کے مکمل کرنے والے تھے دعا کرتے رہے کہ ان کا علم اور بڑھے تو کونسا علم ہو سکتا ہے جو ختم ہو جائے اور کونسا شخص ہو سکتا ہے جو کسی علم کو ختم کر لے- اور جب علم کی حد کوئی نہ رہی تو معلوم ہوا کہ اہل علم کا یہ فرض ہے کہ اپنے اپنے شعبہ میں ہمیشہ مزید ترقی کے لئے کوشش کرتے رہا کریں اور کسی مقام پر پہنچ کر یہ خیال نہ کریں کہ اب ترقی نہیں ہو سکتی- بلکہ ہمیشہ ترقی ہوتی رہے گی اور نئے علوم نکلتے رہیں گے اور ایجادات ہوتی رہیں گے- ہر مرض کی دوا جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ احسان کیا ہے کہ علوم کسی مقام پر ختم نہیں ہوتے- اسی طرح آپ کا یہ بھی احسان ہے کہ آپ نے یہ تعلیم دی کہ ہر اک انسانی ضرورت کا خدا تعالیٰ نے علاج مقرر کیا ہے اور کوئی ضرورت حقہ نہیں جس کے پورا کرنے کا سامان نہ موجود ہو چنانچہ آپ فرماتے ہیں لکل داء دواء ۲۲؎ ہر مرض کا علاج خدا تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے یہ تعلیم آپ نے اس وقت دی تھی جب کہ طب میں ہزاروں بیماریوں کے متعلق کہا جاتا تھا کہ ان کا کوئی علاج نہیں ہے- اور آج بھی جب کہ طب اتنی ترقی کر گئی ہے- اطباء کہتے میں کہ کئی بیماریوں کا کوئی علاج نہیں- مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ملک