انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 268

۲۶۸ کیونکہ شراب کی ضرورت غموں کے غلط کرنے کے لئے ہوتی ہے اور آپ غموں سے آزاد تھے مگر یہ دلیل پہلی دلیل سے بھی زیادہ بودی اور لچر ہوگی کیونکہ آپ کی زندگی غموں کا ایک مرقع تھی- جان کاہیوں کی ایک نہ ٹوٹنے والی زنجیر تھی- نبوت کا دعویٰ پیش کرنے کے بعد سے آپ دنیا کی نگاہوں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے لگے- اپنے اور پرایوں کے حملوں کے ہدف بن گئے- دنیا آپ کے دکھ دینے میں صرف لطف ہی محسوس نہیں کرتی تھی بلکہ وہ اسے ثواب دارین کا موجب خیال کرتی تھی- مکہ کے لوگ ہی نہیں بلکہ عرب کے لوگ مشرک ہی نہیں بلکہ یہودونصاریٰ بھی آپ کو اپنے مذہب اور اپنی قومیت کے لئے ایک خطرناک وجود سمجھتے تھے- پس ہر اک کی تلوار آپ کے خلاف اٹھ رہی تھی- ہر اک کی زبان آپ کی ہتک عزت کے لئے دراز ہو رہی تھی- ہر اک کی آنکھ غصہ سے سرخ ہو ہو کر آپ پر پڑتی تھی- جب عرب آپ کے ہاتھ پر فتح ہو گیا تو تب بھی آپ کو امن نہ ملا- روم کی حکومت نے آپ کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں- ایران کے بادشاہ نے آپ کے قتل کے احکام دیئے- گھر کے دشمن منافقوں نے اندر ہی اندر ریشہ دوانیاں شروع کردیں- غرض دنیوی لحاظ سے ایک شعلہ مارنے والی قبا تھی جو آپ کے لئے تیار کی گئی تھی- ایک گھڑی اور ایک ساعت راحت اور آرام کی آپ کے لئے میسر نہ تھی- حتیٰکہ وفات کے وقت بھی آپ ایک بہت بڑے دشمن کے مقابلہ کے لئے ایک جرارلشکر کو بھیج رہے تھے- ان مصائب اور ان آلام کے ہوتے ہوئے اور شخص ہوتا تو پاگل ہو جاتا مگر آپ بہادری سے ان مشکلات کا مقابلہ کر رہے تھے- پس اگر عیاشی کے لئے نہیں تو غموں ہی کے کم کرنے کے لئے آپ شراب کی اجازت دے سکتے تھے- مگر آپ نے شراب کو حرام اور قطعاً حرام کر دیا- پس کون کہہ سکتا ہے کہ آپ کو غم نہ تھے- اس لئے آپ نے شراب کو حرام کیا- عمدہ کھانے پھر عیاش عمدہ کھانوں کا دلدادہ ہوتا ہے- عیاش لذیذ سے لذیذ اور مقوی سے مقوی کھانے کھاتے ہیں تاکہ شہوت پیدا ہو- مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا یہ حال تھا کہ جس دن آپ فوت ہوئے اس دن شام کو آپ کے گھر فاقہ تھا- بعض اوقات آپ کو بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھنا پڑا- آپ کے پاس جو کچھ آتا- اسلام کی ضرورتوں پر خرچ کر دیتے- حضرت عائشہ فرماتی ہیں بیسیوں وقت ایسے آئے کہ ہمیں کھانے کو کچھ نہ ملا- کئی وقت ایسے آئے کہ صرف کھجوریں کھا کر گذارہ کیا اور کئی وقت ایسے آئے کہ صرف پانی پی کر وقت