انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 234

۲۳۴ عورتوں کو غلامی سے نجات دلانے والا نبیؐ نہیں ہو سکتی۔رسول کریم ﷺ کی بعثت آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے ہوئی ہے اس وقت تک کی مذہب اور قوم میں عورت کو ایسی آزادی حاصل نہ تھی کہ اسے بطور حق کے ووہ استعمال کر سکے۔بے شک بعض ملک جہاں کوئی بھی قانون نہ تھا وہ ہر قسم کی قیود سے آزاد تھے لیکن اسے بھی آزادی نہیں کہا جا سکتا اسے آوارگی کہا جائے گا۔آزادی وہ ہے جو تمدن اور مذہب کے قواعد کو پورا کرتے ہوئے حاصل ہو ان قواعد کو توڑ کر جو حالات پیدا ہو وہ آزادی نہیں کہلا سکتی کیونکہ وہ بلند ہمتی پیدا کرنے کا موجب نہیں بلکہ پست ہمتی پیدا کرنے کا موجب ہوتی ہے۔رسول کریم ﷺکے زمانہ میں اور اس سے قبل عورت کی یہ حالت تھی کہ وہ اپنی جائیداد کی مالک نہ تھی ، اس کا خاوند اس کی جائیداد کا مالک سمجھا جاتا تھا۔اسے اس کے باپ کے مال میں سے حصہ نہ دیا جاتا تھا۔وہ اپنے خاوند کے مال کی بھی وارث نہیں سمجھی جاتی تھی گو بعض ملکوں میں اس کی حین حیات وہ اس کی متولی رہتی تھی۔اس کا نکاح جب کسی مرد سے ہو جاتا تھا تو یا تو وہ ہمیشہ کے لئے اس کی قرار دے دی جاتی تھی اور کسی صورت میں اس سے علیحده نہیں ہو سکتی تھی اور یا پھر اس کے خاوند کو تو اختيار ہوتا تھا کہ اسے جدا کر دے۔لیکن اسے اپنے خاوند سے جدا ہونے کا کوئی حق حاصل نہ تھا۔خواہ اسے کس قدر ہی تکلیف کیوں نہ ہو۔خاوند اگر اس کو چھوڑ دے اور اس سے سلوک نہ رکھے یا کہیں بھاگ جائے تو اس کے حقوق کی حفاظت کا کوئی قانون مقرر نہ تھا۔اس کا فرض سمجھا جاتا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو اور اپنے آپ کو لے کر بیٹھی رہے اور محنت مزدوری کر کے اپنے آپ کو بھی پالے اور بچوں کو بھی پالے۔خاوند کا اختیار سمجھا جاتا تھا کہ وہ ناراض ہو کر اسے مار پیٹ لے اور اس کے خلاف وہ آواز نہیں اُٹھا سکتی تھی۔اگر خاوند فوت ہو جائے تو بعض ملکوں میں وہ خاوند کے رشتہ داروں کی ملکیت سمجھی جاتی تھی۔وہ جس سے چاہیں اس کا رشتہ کر دیں خواہ بطور احسان کے یا قیمت لے کر بلکہ بعض جگہ وہ خاوند کی جائیدادسمجھی جاتی تھی۔بعض خاوند بیویوں کو فروخت کر دیتے تھے یا جوئے اور شرطوں میں ہار دیتے تھے اور وہ بالکل اپنے اختیارات کے دائرہ میں سمجھے جاتے تھے۔عورت کا بچوں پر کوئی اختیار نہ سمجھا جاتا تھا نہ خاوند سے زوجیت کی صورت میں نہ اس سے علیحدگی کی صورت میں۔عورت گھر کے معاملہ میں کوئی اختیار نہیں رکھتی تھی اور دین میں بھی خیال کیا جاتا تھا کہ وہ کوئی درجہ نہیں رکھتی، دائمی نعمتوں میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔اس کا نتیجہ