انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 235

۲۳۵ عورتوں کو غلامی سے نجات دلانے والا نبیؐ یہ تھا کہ خاوند عورتوں کی جائیداد کو اڑا دیتے تھے اور اس کو بغیر کسی گذارہ کے چھوڑ دیتے تھے۔وہ بیچاری اپنے مال میں سے صدقہ خیرات یا رشتہ داروں کی خدمت کرنے کی مجاز نہ تھی جب تک کہ خاوند کی مرضی نہ ہو اور وہ خاوند جس کے دانت اس کی جائیداد پر ہوتے تھے کبھی اس معاملہ میں راضی نہ ہوتا تھا۔ماں باپ جن کا نہایت ہی گہرا اور محبت کا رشتہ ہے ان کے مال سے وہ محروم کر دی جاتی تھی حالانکہ جس طرح لڑکے ان کی محبت کے حقدار ہوتے ہیں، اسی طرح لڑکیاں ہوتی ہیں۔جو ماں باپ اس نقص کو دیکھ کر اپنی لڑکیوں کو اپنی زندگی میں کچھ دے دیتے تھے ان کے خاندانوں میں فساد پڑ جاتا تھا۔کیونکہ لڑکے یہ تو نہ سوچتے تھے کہ باپ ماں کے مرنے کے بعد وہ ان کی سب جائیداد کے وارث ہونگے ہاں یہ ضرور محسوس کرتے تھے کہ ان کے ماں باپ ان کی نسبت لڑکیوں کو زیادہ دیتے ہیں۔اسی طرح خاوند جس سے کامل اتحاد کا رشتہ ہوتا تھا، اس کے مال سے بھی اسے محروم رکھا جاتا۔خاوند کے دور دور کے رشتہ دار تو اس کی جائداد کے وارث ہو جاتے اور وہ عورت جو اس کی محرم راز اور عمر بھر کی ساتھی ہوتی جس کی محنت اور جس کے کام کا بہت سادخل خاوند کی کمائی میں تھا وہ اس کی جائیداد سے محروم کردی جاتی تھی۔یا پھر وہ خاوند کی ساری ہی جائیداد کی نگران قرار دے دی جاتی لیکن وہ اس کے کسی حصے میں تصرّف سے محروم تھی۔وہ اس کی آمد کو تو خرچ کر سکتی تھی لیکن اس کے کسی حصہ کو استعمال نہیں کر سکتی تھی اور اس طرح بہت سے صدقات جاریہ میں اپنی خواہش کے مطابق حصہ لینے سے محروم رہتی تھی۔خاوند اس پر خواہ کس قدر ہی ظلم کرے وہ اس سے جُدا نہیں ہو سکتی تھی یا جن قوموں میں جُدا ہو سکتی تھی ایسی شرائط پر کہ بہت ہی شریف عورتیں اس جدائی سے موت کو ترجیح دیتی تھیں۔مثلاً جدائی کی یہ شرط تھی کہ خاوند یا عورت کی بدکاری ثابت کی جائے اور پھر اس کے ساتھ ظلم بھی ثابت کیا جائے۔اور اس سے بڑھ کر ظلم یہ تھا کہ بہت سی صورتوں میں جب عورت کا خاوند کے ساتھ رہنا ناممکن ہوتا تھا تو اسے کامل طور پر جُد اکرنیکی بجائے صرف علیحدہ رہنے کا حق دیا جاتا تھا جو خود ایک سزا ہے کیونکہ اس طرح وہ اپنی زندگی کو بے مقصد بسر کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔یا پھر یہ ہوتا تھا کہ خاوند جب چاہے عورت کو جدا کردے لیکن عورت کو اپنی علیحدگی کا مطالبہ کرنے کا کسی صورت میں اختیار نہ تھا۔اگر خاوند اسے معلّقہ چھوڑ دیتا یا ملک چھوڑ جاتا اور خبر نہ لیتا تو عورت کو مجبور کیا جا تاکہ وہ اس کا انتظار عمر بھر کرتی رہے اور اسے اپنی عمر کو ملک اور قوم کے لئے مفید طور پر بسر کرنے کا اختیار نہ