انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 184

۱۸۴ پھر آپ نے بتایا کہ اصل میں سب اقوام کو یہ دھوکا لگ گیا ہے کہ انسان کی فطرت گناہگار ہے- کسی کو ورثہ کے گناہ کی تھیوری سے کسی کو پرانے کرم کی وجہ سے کسی کو خلقالانسانضعیفا۳۰؎ کی آیت سے کسی کو تقدیر ازلی کے خیال سے یہ وسوسہ پیدا ہو گیا ہے- حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ باوجود ورثہ تربیت وغیرہ کے اثرات کے انسانی فطرت نیکی پر پیدا کی گئی ہے- فطرت میں عیب سے انقباض اور نیکی کی رغبت رکھی گئی ہے- باقی سب رنگ ہوتے جو اوپر چڑھ جاتے ہیں- ثبوت اس کا یہ ہے کہ بدکار لوگ بھی نیکیاں زیادہ کرتے ہیں- ایک آدمی جسے جھوٹا کہا جاتا ہے- اگر وہ کئی جھوٹ دن میں بولے گا تو ان سے کہیں زیادہ وہ سچ بولے گا- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا کہ سب بدیوں کی جڑھ یہ ہے کہ انسان کے دل میں پاگیزگی کی امید کو نکال دیا گیا ہے- اور اسے خود اس کی نظروں میں گرا دیا گیا ہے- انسان کو ازلی شقی کہہ کہہ کر ایسا ہی بنا دیا گیا ہے- کسی لڑکے کو یونہی جھوٹا کہنے لگ جاؤ کچھ عرصہ کے بعد وہ سچ مچ جھوٹ بولنے لگ جائے گا- آپ نے بتایا کہ انسان کو حقیقتا نیک بنایا گیا ہے بدی صرف زنگ ہے- جس دھات سے وہ بنا ہے وہ نیکی ہے- اسے اس حقیقت سے آگاہ کرنا چاہئے تا کہ اس میں دلیری پیدا ہو اور مایوسی دور ہو- اسے اس کے پاک مبدا کی طرف توجہ دلاؤ- اس طرح وہ خود بخود نیکی کی طرف مائل ہوتا چلا جائے گا- (۲)دوسری دلیل دوسرے مذاہب کی تھیوریوں کے رد میں آپ نے یہ پیش کی کہ گناہ اس فعل کو کہتے ہیں جو دیدہ و دانستہ ہو- جو دیدہ و دانستہ نہ ہو- بلکہ جبر سے ہو وہ اس حد تک کہ جبر ہو گناہ نہیں ہوتا- مثلاً بچہ کا ہاتھ پکڑ کر ماں کے منہ پر تھپڑ مارا جائے تو کیا ماں بچہ کو مارے گی؟ پس فرمایا کہ ورثہ کے گناہ سے اگر انسان بچ نہیں سکتا تو وہ گناہ نہیں- عادت کے گناہ سے اگر انسان بچ نہیں سکتا تو وہ گناہ نہیں- تعلیم و تربیت کا اگر اس پر ایسا اثر ہے کہ طبعی طور پر اس کا گناہ سے بچنا ناممکن ہے تو وہ گناہ نہیں اگر طبعی کمزوریاں ایسی ہیں کہ خواہ وہ کچھ کرے ان سے نکل نہیں سکتا تو وہ گناہ نہیں- پس اگر اس حد تک روک ہے کہ انسان اسے دور نہ کر سکے تو گناہ نہیں- اور اگر ایسا نہیں تو معلوم ہوا کہ انسان ان سے بچ سکتا ہے- اور اگر اس سے بچ سکتا ہے تو پھر طبی ذرائع کو چھوڑ کر نئے طریقے جیسے کفارہ یا تناسخ ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں- اور جس حد تک انسان مجبور ہے، اسی حد تک انسان کو معذور اور اس کی وجہ سے بے گناہ تسلیم