انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 183

۱۸۳ حساب کی صفائی بھی نہایت ضروری ہے لیکن آپ نے انبیاء کے متعلق گناہ کی نسبت کو سختی سے رد کیا اور اس مسئلہ کو بھی رد کیا کہ انسان باوجود دیدہ و دانستہ شریعت کی مخالفت کرنے کے شفاعت سے حصہ لے سکتا ہے- یہ دونوں مسئلے یہود سے مسلمانوں نے لئے تھے اور اسلامی تعلیم کے مخالف تھے- آپ نے اس خیال کو بھی کہ خدا تعالیٰ نے کسی کو بدکار بنایا اور کسی کو نیک رد کیا- اور پہلی دو باتوں کو آپ نے اس اصلاح کے ساتھ تسلیم کیا(۱)اس میں کوئی شک نہیں کہ ورثہ سے بھی اچھے اور برے اثر ملتے ہیں- (۲)اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کھانیپینے اور آب و ہوا سے بھی بعض بعض خاص عادات پیدا ہو جاتی ہیں- جیسا کہ مختلف ملکوں کی عادات سے ظاہر ہے- کشمیر کے لوگ بزدل ہوتے ہیں اور پٹھان خونخوار ہوتے ہیں- بنگالی بزدل ہوتے ہیں اور ان کی نسبت پنچابی بہادر ہوتے ہیں- اگر انسان اپنے متعلق پورا پورا اختیار رکھتا تو ہمیشہ یہی کیوں ہوتا کہ بنگالی مارتا نہیں- کشمیری دلیری اور جرات کا کام نہیں کرتا اور پٹھان مرنے مارنے پر تیار رہتا ہے- اس طرح کے قومی عیوب بتاتے ہیں کہ کھانے پینے اور آب و ہوا کا بھی عادات میں دخل ہوتا ہے- پس ان خاص افعال کی نسبت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہاں کے سب لوگ اپنی مرضی سے خاص عیب یا خاص خوبیاں اختیار کر لیتے ہیں- (۳)اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تربیت اور عقیدہ کا بھی انسان پر خاص اثر پڑتا رہتا ہے جیسے ہندو گائے کے ذبح کرنے پر جوش میں آ جاتا ہے وہ جانتا ہے کہ دوسرے کو مارنے پر پھانسی دیا جاؤنگا- مگر جب گائے کو ذبح ہوتے دیکھتا ہے تو قتل پر آمادہ ہو جاتا ہے، یہ عقیدہ کا اثر ہے- (۴)اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جس وقت انسان کوئی کام کرنے لگتا ہے اس وقت کے حالات کا بھی اس پر خاص اثر پڑتا ہے- ایک استاد روز لڑکوں سے سبق سنتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے مگر ایک دن اس کی بیوی سے لڑائی ہو جائے اور وہ گھر سے غصہ میں بھرا ہوا نکلے تو سبق سننے کے وقت ذراسی غلطی کرنے پر سزا دے دے گا- پس ظاہر ہے کہ موجودہ حالات کا بھی انسان کے اعمال پر اثر پڑتا ہے- غرض بہت سے امور ہیں جو انسان کے اعمال پر اثر ڈالتے ہیں- پس حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے بتایا کہ صرف ورثہ ہی ایک چیز نہیں کہ جو انسان پر تاثیر کرتا ہے- اس کے علاوہ اور اشیاء بھی ہیں اور جب یہ ثابت ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر ورثہ کا گناہ کفارہ سے دور ہو سکتا ہے تو باقی گناہ کس طرح سے دور ہوں گے؟