انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 134

۱۳۴ نہیں سکتی تو بہترین طریق اور صحیح طریق یہی ہوگا کہ اسے مادی قواعد سے حل کرنے کی بجائے صفات الہیہ سے حل کیا جائے تا کہ غلطی کے امکان سے حفاظت حاصل ہو جائے اور یہی طریق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اختیار کیاہے- میں سمجھتا ہوں کہ وقت کا غلط مفہوم جو اس وقت تک دنیا میں قائم ہے وہ بھی اس مسئلہ کے سمجھنے میں روک ہے اور کچھ بھی تعجب نہیں کہ آئنسٹائن ۱۰؎کی تھیوری (فلسفہ نسبت( ترقی پاتے پاتے اس مسئلہ کو زیادہ قابل فہم بنا دے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو یہ تحریر فرماتے ہیں کہ دوروحدت مقدم ہے اور یہ اوپر کے بیان کے مخالف نہیں کیونکہ حضرت مسیح موعودؑ آئندہ کیلئے بھی دوروحدت کی خبر دیتے ہیں- مگر باوجود اس کے آپ ارواح کے لئے غیر مجذوذ انعام تسلیم فرماتے ہیں- اور آریوں کے اس عقیدہ کو رد فرماتے ہیں کہ اربوں سال کے بعد ارواح پھر مکتی خانہ سے نکال دی جائیں گی- پس معلوم ہوا کہ آپ کے نزدیک آئندہ کسی اور وحدت کا آنا اور اس کے ساتھ ارواح کا فنا سے محفوظ رہنا دوروحدت کے خلاف نہیں- اصل بات یہ ہے کہ دوروحدت کا اصل مفہوم لوگوں نے نہیں سمجھا- مرنے کے بعد کی حالت دوروحدت ہی ہے کیونکہ اس وقت اپنا عمل نہیں ہوتا بلکہ انسان خدا کے تصرف کے ماتحت چلتا ہے- اس کا اپنا کوئی ارادہ نہیں ہوتا- مرنے کے بعد انسان مشین کی طرح ہوتا ہے- دارالعمل )یعنی بالارادہ عمل( اس دنیا میں ختم ہو جاتا ہے اور یہی حالت مخلوق کی نسبت سے دوروحدت کے منافی ہے- (۶) حضرت مسیح موعود علیہ والسلام کی بعثت سے پہلے اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق ایک اور بحث بھی پیدا ہو رہی تھی اور وہ یہ کہ اس کی قدرت کے مفہوم کو غلط سمجھا جا رہا تھا- بعض لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ خدا قادر ہے اس لئے وہ جھوٹ بھی بول سکتا ہے یا فنا بھی ہو سکتا ہے- بعض کہتے کہ نہیں اس کی صفات اسی قدر ہیں جو اس نے بیان کی ہیں اور وہ جھوٹ نہیں بول سکتا- حضرتمسیح موعود علیہ السلام نے اس جھگڑا کا بھی فیصلہ کر دیا- اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے قدیر ہونے کی صفت کو اس کی دوسری صفات کے مقابلہ پر رکھو اور پھر اس کے متعلق غور کرو- جہاں یہ نظر آتا ہے کہ خدا قدیر ہے وہاں یہ بھی تو ہے کہ خدا کامل ہے اور فنا کمال کے خلاف ہے- دیکھو اگر کوئی کہے کہ میں بڑا پہلوان ہوں، بڑا طاقتور ہوں تو کیا اسے یہ کہا جائے گا کہ