انوارالعلوم (جلد 10) — Page 133
۱۳۳ مخلوق کو قدامت نوعی حاصل ہے گو قدامتِ ذاتی کسی شے کو حاصل نہیں- کوئی ذرہ، کوئی روح، کوئی چیز ماسوی اللہ ایسی نہیں کہ جسے قدامت ذاتی حاصل ہو- لیکن یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ سے اپنی صفت خلق کو ظاہر کرتا چلا آیا لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قدامت نوعی کا بھی وہ مفہوم نہیں لیا جو دوسرے لوگ لیتے ہیں جو یہ ہے کہ جب سے خدا ہے تب سے مخلوق ہے- یہ ایک بیہودہ عقیدہ ہے اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اس کے قائل نہیں- یہ کہنا کہ جب سے خدا ہے تب سے مخلوق ہے اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں- جو دونوں باطل ہیں- ایک تو یہ کہ خدا بھی ایک عرصہ سے ہے اور مخلوق بھی- کیونکہ جب کا لفظ وقت کی طرف خواہ وہ کتنا ہی لمبا ہو اشارہ کرتا ہے اور ایسا عقیدہ بالکل باطل ہے- دوسرے معنی اس جملہ کے یہ بنتے ہیں کہ مخلوق انہی معنوں میں ازلی ہے کہ جن معنوں میں خدا تعالیٰ ہے- اور یہ معنے بھی اسلام کی تعلیم کے خلاف ہیں اور عقل کے بھی- خالق اور مخلوق ایک ہی معنوں میں ازلی نہیں ہو سکتے- ضروری ہے کہ خالق کو تقدم حاصل ہو اور مخلوق کو تاخر- یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعودعلیہالصلوۃوالسلام نے یہ کبھی نہیں لکھا کہ مخلوق بھی ازلی ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ مخلوق کو قدامت نوعی حاصل ہے اور قدامت اور ازلیت میں فرق ہے- غرض حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے نزدیک مخلوق کو قدامت نوعی تو حاصل ہے مگر ازلیت نہیں- خالق مخلوق پر بہرحال مقدم ہے اور دوروحدت دور خلق سے پہلے ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خالق اور مخلوق کے اس تعلق کو سمجھنا کہ خالق کو ازلیت بھی اور دور وحدت کو تقدیم بھی حاصل ہوا اور مخلوق کو قدامت نوعی بھی حاصل ہو، انسانی عقل کے لئے مشکل ہے لیکن صفات الہٰیہ پر غور کرنے سے یہی ایک عقیدہ ہے جو شان الہی کے مطابق نظر آتا ہے- اس کے علاوہ دوسرے عقائد یا تو شرک پیدا کرتے ہیں یا خدا تعالیٰ کی صفات پر ناقابل قبول حد بندیاں لگاتے ہیں- اور اس میں کیا شبہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے متعلق وہی عقیدہ درست ہو سکتا ہے جو اس کی دوسری صفات کے مطابق ہو- جو ان کے خلاف ہے وہ عقیدہ قابل قبول نہیں- پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰٰ لیس کمثلہ شیء ہے- اس کے افعال کی کنہ کو اس طرح سمجھنے کی کوشش کرنا جس طرح کہ انسان کے افعال کو سمجھا جاتا ہے عقل سے بعید ہے- پس جب کہ خلق عالم کا مسئلہ ایسے امور سے تعلق رکھتا ہے جن کو انسانی عقل پورے طور پر سمجھ